×

حضرت امام مہدی کی قیادت کے منتظرین کو مبارک ہو : نام نہاد عالمی قیادت خود اپنے بدترین انجام کی طرف روانہ ۔۔۔۔ دنیا بھر کے مظلوم و بے بس مسلمانوں کو خوشخبری سنا دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) دن آیا چاہتا ہے جب وائٹ ہاوس میں امریکی صدر ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور یو۔اے۔

ای کی ’’قیادت‘‘ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مشرق وسطیٰ میں ’’امن‘‘ کی تصویرکھنچوائیں گے۔ ایسی کئی تصویریں یاسر عرفات مرحوم، شاہ حسین، محمود عباس سمیت کئی اور لیڈروں کی کھینچی گئیں جو وقت کی دھند میں

غائب ہوگئیں۔

نامور کالم نگار محمد اسلم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلسطینی لٹتے، ق-تل اور بے گھر ہوتے رہے۔ اصل امتحان پاکستان اور اس کی قیادت کا ہے۔

پاکستان میں اب تک حکومت کی سطح پر بھی خاموشی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی سانپ سونگھا ہوا ہے۔ صرف جماعت اسلامی نے فی الفور ایک ریلی نکال کر ’’بیت المقدس‘‘ کو بچالیا ہے اور فلسطینیوں کی حمایت کا روایتی مظاہرہ کردکھایا ہے۔

حضرت مولانا عوامی نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل کے ہمراہ پریس کانفرنس میں پہلو بدلتے رہے لیکن ’’صیہونی سازش‘‘ پر اظہار خیال نہیں فرمایا۔

’’اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کیاحرج ہے‘‘ کی گردان پاکستان میں شروع ہوا چاہتی ہے۔ چند نمائشی قلم کاروں نے سیاہ کاری شروع کردی ہے۔

سیاہی کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے فلسطین پر قائداعظم کو بن گوریان کے ٹیلی گرام کے حوالے لکھے جارہے ہیں کہ کس طرح اسرائیلی وزیراعظم نے بابائے قوم کو اسرائیل سے تعلقات کیلئے پیغام بھجوایا لیکن جواب نہ دیا گیا۔

ضیاء الحق سے لے کر مشرف حکومت میں خورشید قصوری کی ترکی میں اسرائیلی وزیرخارجہ سے ملاقات کی کہانیاں کرید کرید کر نکالی جارہی ہیں۔

ساری تان اس ایک بات پر ٹوٹ رہی ہے کہ ’جب عرب ہی اس مسئلے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں تو تیسرے محلے ہمارے پیٹ میں کیوں درد ہورہا ہے‘ بعض تو سفاکی کے اس درجے تک جا پہنچے ہیں جس میں فلسطینیوں کو طعنے دئیے جارہے ہیں کہ انہوں نے ایک لاکھ کی اپنی زمین خود اسرائیلیوں کو تیس تیس لاکھ میں

فروخت کی۔

اسکی سزا ہم کیوں بھگتیں۔ ان ذہنی مریضوں کو احادیث کا علم ہے اور نہ ہی انہوں نے کبھی سورۃ کہف کی تلاوت یا اس میں بیان کردہ مضامین کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

پہلی بار قرآن کریم کی اٹھارویں سورۃ مبارکہ کا مفہوم حقیقت میں سمجھ آرہا ہے۔ اللہ کے آخری رسول آقائے محترم سید الانبیاء سرورکونین حضرت محمد مصطفی ﷺنے دجال کے دور میں اس کی ہر جمعہ کو بالخصوص تلاوت کی تلقین فرمائی تھی۔

اس سورہ میں پیسے کے سامنے سرجھکانے کی حقیقت کو کھول کر بیان فرمایاگیا ہے۔ آج ترقی، ٹیکنالوجی، مشینوں اور کورونا کے نام پر ایک کھلے ظلم کے سامنے سرجھکانے کی بات ہورہی ہے۔

ایک طرف سچائی ہے اور دوسری طرف جھوٹ ہے۔ آج جھوٹ سچ کومٹانے پر تل گیا ہے۔ دنیا واضح طورپر دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔ مسلمان دنیا بھی دو حصوں میں بٹتی جارہی ہے۔

اللہ رب العزت اور اسکے متوالے ایک طرف ہیں اور شیطان اور اسکے پجاری دوسری طرف۔ حزب اللہ اور حزب الشیطان کی صفیں سج گئیں، گھمسان کا رن بس پڑنے کو ہے۔

کون ارطغرل ہے یہ فیصلہ بھی ہونے کو ہے۔ اللہ کے رسول فرماگئے ہیں کہ اس میدان سے جو بھاگے گا، اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور اس میں جو کامیاب ہوگیا، اسکے درجے سْن کر صحابہ کرامؓ بھی تمنا کرتے ہوئے کہتے تھے کہ مجھے وہ زمانہ ملا تو کہنیوں پر گھسیٹ کر بھی جانا پڑا تو جائوں گا۔

مسلمانوں کی فتح اور عروج کا وقت آرہا ہے۔ حضرت امام مہدی کی قیادت کے منتظرین کو خوشخبری ہو۔ (ش س م)

اپنا تبصرہ بھیجیں