×

صرف مسئلہ کشمیر نہیں ۔۔ سی پیک چاہ بہاد بندرگاہ اور اسرائیل کے خلاف یہ بیان کہ ۔۔۔۔ پاکستان کے کون کون سے کام سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی کی اصل وجہ ہیں ؟ بی بی سی کی رپورٹ نے آل سعود کی اصلیت کھول کر رکھ دی

اسلام آباد(ؤیب ڈیسک)ماہرین کے مطابق دونوں ملکوں میں ‘دوریوں’ کی ایک وجہ ایران کی چابہار بندرگاہ کو چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کا حصہ بنوانے میں پاکستان کا کردار بھی ہےپچھلے سال جب سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا تو ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ بقول وزیراعظم عمران خان

اگر وہ پاکستان سے الیکشن لڑتے تو کامیاب ہو جاتے۔دورے میں محمد بن سلمان کی خوب آؤ بھگت ہوئی اور انھوں نے بھی اسی گرم جوشی سے خلوص لوٹایا اور پاکستانیوں کو بتایا کہ وہ انھیں سعودی عرب میں اپنا سفیر سمجھیں۔دورے کے دوران پاکستان کی مشکل میں گھری معیشت کے لیے 20 ارب ڈالر کے سمجھوتوں پر دستخط ہوئے اور ایسا محسوس ہوا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تاریخی رشتوں کو نئی جہت مل گئی ہے۔تقریباً 18ماہ بعد پانچ اگست کو جب پاکستان اپنے ہمسائے انڈیا کی جانب سے اس کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے ایک سال مکمل ہونے پر یوم استحصال منا رہا تھا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک نجی نیوز چینل اے آر وائی پر ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے ایک پبلک فورم پر پہلی مرتبہ کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب کی پالیسی پر کھل کر مایوسی کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ ’سعودی عرب اور ہمارے بہت عمدہ تعلقات ہیں۔ احترام اور محبت کا رشتہ ہے۔ پاکستانی مکہ اور مدینہ کی سالمیت پر جان دینے کے لیے تیار ہیں۔’آج میں اسی دوست ملک (سعودی عرب) سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کا مسلمان اور وہ پاکستانی جو آپ کے لیے لڑ مرنے کو تیار ہے آج وہ آپ سے تقاضا کر رہا ہے کہ آپ (کشمیر کے معاملے پر) وہ قائدانہ کردار ادا کریں جو مسلم امہ آپ سے توقع کر رہی ہے۔۔۔ اور اگر نہ کیا تو میں عمران خان سے کہوں گا کہ ’سفیر کشمیر‘ اب مزید انتظار نہیں ہو سکتا۔ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔ سعودی عرب کے ساتھ یا اس کے بغیر۔‘پاکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے کھلے عام سعودی عرب سے شکوے شکایت پر سفارتی حلقوں میں تہلکہ مچ گیا۔اس بیان کو نہ صرف ریاض بلکہ پاکستان کے سعودی نواز حلقوں میں ناپسندیدگی سے دیکھا گیا۔

کچھ سیاستدانوں، نیوز اینکرز اور مذہبی حلقوں کی جانب سے اسے وزیر خارجہ کی ذاتی رائے سے تعبیر کیا گیا تو کہیں اسے وزیراعظم پر دوسرے فرقوں کی لابی کے اثرورسوخ کا نتیجہ قرار دیا گیا۔تاہم وزیراعظم عمران نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں ہیں اور ان کے ساتھ مضبوط برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ملک اپنے خارجہ پالیسی کے اعتبار سے فیصلہ کرتے ہیں اور سعودی عرب کی بھی اپنی پالیسی ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان کے بعد پسِ پردہ ڈپلومیسی حرکت میں آ گئی۔ سعودی سفیر نے رابطے شروع کر دیے اور سب سے اہم رابطہ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہوا جن سے چند روز بعد سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے راولپنڈی میں پاکستان کی فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ جس کے سب سے بڑے کرتا دھرتا سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔جب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی پاکستان مسلسل اس معاملے پر اسلامی ملکوں کی تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسے اب تک اس میں کامیابی نہیں ہو سکی۔شاہ محمود قریشی نے کہا ’میں ایک مرتبہ پھر او آئی سی سے مودبانہ گذارش کروں گا کہ اگر کونسل آف فارن منسٹرز کا اجلاس آپ نہیں بلا سکتے تو میں مجبوراً اپنے وزیر اعظم سے کہوں گا کہ وہ مسلم ممالک جو کشمیر کے مسئلے پر ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں اور کشمیری مظلوموں کا ساتھ دینا چاہتے ہیں، ان کا اجلاس بلا لیں چاہے وہ او آئی سی کے فورم پر ہو یا نہ ہو۔‘شاہ محمود قریشی کا اشارہ ترکی اور ملائیشیا کی جانب تھا۔ دسمبر 2019 میں اس وقت کے ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی دعوت پر عمران خان کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے تھے۔

اس اجلاس میں ترکی، انڈونیشیا، قطر اور پاکستان سمیت کئی مسلم ملکوں کے رہنماؤں کو دعوت دی گئی تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ او آئی سی سے ہٹ کر ہم خیال مسلم ممالک کا ایک نیا پلیٹ فارم وجود میں آ رہا ہے۔ جس میں سعودی عرب کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہو گی۔پاکستان نے ابتدائی طور پر اس نئے پلیٹ فارم کی حمایت بھی کی تھی لیکن پھر اچانک عمران خان نے اس اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی تھی۔ایسا سعودی عرب کے دباؤ پر کیا گیا جو نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان جیسا اہم مسلم ملک اپنا سیاسی، سفارتی اور فوجی وزن کسی اور پلڑے میں ڈالے۔شاہ محمود قریشی نے تصدیق کی کہ کوالالمپور نہ جانے کا ’اتنا بڑا فیصلہ‘ پاکستان نے سعودی عرب کے دباؤ میں آ کر کیا۔سعودی عرب نے تقاضا کیا اور ہم نے بڑے بوجھل دل کے ساتھ (ملائشیا کو) سمجھانے کی کوششیں کیں۔میں خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں مہاتیر محمد کو جنھوں نے گلہ تک نہیں کیا اور اس وقت بھی وہ ہماری مشکلات کو اور مجبوریوں کو سمجھ گئے۔‘شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ او آئی سی بیچ بچاؤ آنکھ مچولی سے باہر نکلے اور یہ فیصلہ کرے کہ وہ اس حساس مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دینا چاہتی ہے یا نہیں۔شاہ محمود قریشی: پاکستان کے لوگ او آئی سی سے توقعات رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ او آئی سی عالمی سطح پر جموں و کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے قائدانہ کردار ادا کرے۔’پاکستان کے لوگ او آئی سی سے توقعات رکھتے ہیں‘اگلے دن پاکستان کے دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران جب وزیرخارجہ کے بیان پر صحافیوں کی جانب سے وضاحت طلب کی گئی اور پوچھا گیا کہ کیا یہ بیان سفارتی روایتوں کے خلاف نہیں تو ترجمان نے جہاں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات کا حوالہ دیا اور ماضی میں او آئی سی کے کردار کی تعریف کی وہیں یہ بھی دہرایا:’پاکستان کے لوگ او آئی سی سے توقعات رکھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ او آئی سی عالمی سطح پر جموں و کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے قائدانہ کردار ادا کرے۔

’ہم اس کے لیے کوششیں کرتے رہیں گے اور امید رکھتے ہیں کہ اس حوالے سے مثبت پیش رفت ہو گی۔‘پاکستان کے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں وزیرخارجہ کے بیان کو ان کا ذاتی بیان قرار نہیں دیا بلکہ کہا کہ ’اگر خارجہ پالیسی کا کوئی مقصد پورا نہیں ہو رہا ہو تو ظاہر ہے کہ آپ کو اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’کشمیر کے معاملے میں ہم نے دیکھا ہے کہ کئی ملکوں کا قومی مفاد ہمارے قومی مفاد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایسی صورت میں آپ ایسے ملکوں کا چناؤ کرتے ہیں جن کا قومی مفاد آپ کے ساتھ میل رکھتا ہو۔‘سعودی عرب اور انڈیا کے تجارتی رشتے زبردست ہیں بلکہ انڈیا کے ساتھ پاکستان کی نسبت سعودی عرب کی زیادہ تجارت ہوتی ہے‘سعودی عرب، انڈیا اور امریکہتجزیہ کار غنا مہر کہتی ہیں کہ کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب اور خاص کر محمد بن سلمان کا انڈیا اور امریکہ کی طرف جھکاؤ واضح ہے اور یہ بالکل بھی حیران کن نہیں۔انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’سعودی عرب اور انڈیا کے تجارتی رشتے زبردست ہیں بلکہ انڈیا کے ساتھ پاکستان کی نسبت سعودی عرب کی زیادہ تجارت ہوتی ہے۔’اب دنیا مسلم امہ بمقابلہ دوسرے ملکوں کے بلاکس کے درمیان تقسیم نہیں ہے۔ یہ ایسی دنیا ہے جہاں ہر ملک اپنے قومی مفاد کو دیکھتے ہوئے نئے اتحاد اور پالیسیاں بنا رہا ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسے میں سعودی عرب کی مسلم شناخت اب مقدس مقامات کی متولی ہونے کی حد تک محدود ہو چکی ہے۔’محمد بن سلمان کی حکمرانی میں امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات اور تجارتی مفاد ان کی خارجہ پالیسی کے اہم ستون ہیں۔

‘نا مہر کہتی ہیں اس وقت پاکستان کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ سعودی عرب کی وجہ سے پاکستان دوسرے ملکوں جیسے کہ ایران کے ساتھ اپنے رشتے بنانے پر توجہ نہیں دے سکتا۔بقول غنا اسلام آباد کو مشرق وسطی کے مسائل کے بجائے اپنے خطے میں رابطے بہتر بنانے کے لیے کوششیں کرنی چاہییں۔ایران کی بندرگاہ چاہ بہار پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے صرف 90 کلومیٹر دور ہےپاکستان، چین اور ایرانپاکستان اور سعودی عرب کے تناؤ کی بظاہر سب سے بڑی وجہ کشمیر کے معاملے پر ریاض کی جانب سے اسلام آباد کے مؤقف کی کھل کر حمایت نہ کرنا ہے۔ تاہم کئی سیاسی امور کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ کہانی صرف کشمیر کی نہیں اور یہ کہ دونوں ملکوں میں ’دوریوں‘ کی ایک وجہ ایران کی چابہار بندرگاہ کو چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کا حصہ بنوانے میں پاکستان کا کردار بھی ہے۔پہلے چابہار ریلوے منصوبہ انڈیا کہ تعاون سے بنایا جا رہا تھا لیکن اب ایران نے دفاعی اور اقتصادی اہمیت رکھنے والے اس منصوبے سے انڈیا کو علیحدہ کر دیا ہے۔اب چین اس ریلوے لائن پراجیکٹ پر سرمایہ کاری کرے گا۔ جو کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس کی سلامتی اور خطے میں اس کے تجارتی اور سیاسی مفادات میں بہتر ہے۔تجزیہ کار ڈاکٹر رضوان نصیر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر پاکستان نے کوششیں کی ہیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہدری ایران سے منسلک ہو جائے اور چابہار بندرگاہ بھی سی پیک کے دائرے میں آ جائے تو اس پر سعودی عرب میں ردِ عمل ضرور ہے۔’ایران اور سعودی عرب نظریاتی مخالف ہیں

اور دونوں کے درمیان یمن سے لے کر شام تک کئی پراکسیز (بلاواسطہ جنگیں) چل رہی ہیں۔‘رضوان نصیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب امریکہ کا اتحادی ہے اور امریکہ نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں تو ایسا کوئی بھی منصوبہ جس سے ایران کو معاشی طور پر فائدہ ہو یا چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے کو تقویت ملے امریکہ بھی اسے ناپسند ہی کرے گا۔انھوں نے کہا کہ ’پاکستان نے یہ قدم نیک نیتی اور اپنے اور خطے کے مفاد میں اٹھایا ہے لیکن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں، امریکہ اور بھارت کے لیے اسے برداشت کرنا کافی مشکل ہے۔’خاص طور پر سعودی عرب جو سمجھتا ہے کہ پاکستان اس کے مفاد کو ہمیشہ ترجیح دے گا۔‘کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے جو تین ارب ڈالر دیے تھے ان کی وقت سے پہلے واپسی کا تقاضا کیا ہے۔ اس میں سے تقریباً ایک ارب ڈالر پاکستان نے چین کی مدد سے واپس بھی کیے ہیں۔ایک ارب ڈالر کی وقت سے پہلے واپسی کے سوال پر وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بینکوں میں پڑے پیسے تو کبھی بھی واپس ہو سکتے ہیں۔ یہ معمول کی بات ہے۔ ہوسکتا ہے انھیں (یعنی سعودی عرب کو) خود ضرورت ہو۔ہمیں مثبت پہلو پر نظر رکھنی چاہیے کہ ابھی بھی انھوں نے پورے پیسے واپس نہیں لیے ہیں۔ ابھی بھی ہمارے بینکوں میں ان کے پیسے موجود ہیں۔‘فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان تعلقات پر سوال اٹھانے کی کوئی گنجائش نہیںفوج کی سفارتکاریسنہ 2018 میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی اور ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لیے چھ اعشایہ دو ارب ڈالر کا قرض دیا گیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس میں اہم کردار ادا کیا تھا اور یہ کہ حالیہ تناؤ کے بعد بھی فوج ہی اس معاملے کو سلجھانے کے لیے سامنے آئی ہے۔سعودی سفیر سے ملاقات کے کچھ دن بعد جنرل باجوہ کے ریاض کے دورے کی خبریں سامنے آئیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ دورہ معمول کے دفاعی تعاون کے لیے ہے اور اس کے بارے میں ضرورت سے زیادہ قیاس آرائی کی ضرورت نہیں۔فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ مسلم دنیا میں سعودی عرب کی مرکزیت پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ ’پاکستان اور سعودی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان تعلقات پر سوال اٹھانے کی کوئی گنجائش نہیں۔

‘’جارحانہ نہیں پروقار حکمت عملی‘تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ خانہ کعبہ اور مقدس مقامات کا متولی ہونے کی حیثیت سے سعودی عرب پاکستانیوں کے دلوں میں خاص مقام رکھتا ہے اور پاکستان کی کمزور معیشت کو ریاض نے ہمیشہ سہارا دیا ہے لیکن یمن سے شام تک پراکسی جنگوں میں مصروف سعودی عرب کے لیے پاکستان کی دفاعی مدد انتہائی اہم ہے۔ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کی سعودی حکومت کی جانب سے بنائے گئے فوجی اتحاد کی کمانڈر کی حیثیت سے تعیناتی اس دفاعی انحصار اور بھروسے کی بڑی مثال ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اس پاک سعودی تعلقات کے ابھرتے بحران کو قابو میں کرنے کے لیے جنرل باجوہ سے بہتر کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا تھا۔توقع کی جارہی ہے کہ جنرل باجوہ کے دورے سے وقتی طور پر تلخی میں کمی آئے گی۔ کئی سعودی نوار حلقوں کی جانب سے شاہ محمود قریشی کے بیان کو غیر ذمے دارانہ قرار دے کر انھیں وزارت خارجہ سے الگ کرنے کی باتیں بھی کی گئیں۔لیکن کیا یہ زبان سے پھسلے ہوئے جذباتی الفاظ تھے یا پھر ’گڈکاپ اور بیڈ کاپ‘ کی حکمت عملی کے تحت دیا گیا سوچا سمجھا بیان تھا؟تجزیہ نگار ڈاکٹر رضوان نصیر کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ اور ان کا بیان، الفاظ کا چناؤ اور لہجہ اور یہاں تک کے وقت کا انتخاب کچھ بھی بے مقصد نہیں بلکہ سب بہت سوچا سمجھا تھا۔غنا مہر کہتی ہیں ’پاکستان کے سیاستدانوں، مدرسوں، مذہبی لیڈروں اور خاص کر وہابی مسلمانوں پر سعودی عرب کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔‘ایسے میں وہ سمجھتی ہیں کہ یہ ایک ہوشیار حکمت عملی تھی جو کہ جارحانہ نہیں بلکہ پر وقار تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں