×

آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی محمد بن سلمان سے ملاقات کیے بنا ہی واپس، سعودی ولی عہد کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کیوں نہ ہوسکی؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان کی عسکری قیادت کی سعودی ولی عہد سے ملاقات نہ ہو پانے کی وجہ سامنے آ گئی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ سے متعلق اپنی ٹیم کے ساتھ 3 گھنٹے طویل میٹنگ کی، اس کے بعد سعودی شہزادے نے اپنے چھوٹے

بھائی خالد بن سلمان کو تمام تر اختیارات دیتے ہوئے آرمی چیف سے ملاقات کے لیے بھیجا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران آرمی چیف آف پاکستان کی سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات نہیں ہو پائی جس کے بعد ہمہ قسم کی چہ مگوئیاں جاری ہیں۔

اس حوالے سے رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسی خبریں آئی ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ سعودی عرب سے متعلق اپنی ٹیم کے ساتھ 3 گھنٹے طویل میٹنگ کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی شہزادے کی قیادت میں اس میٹنگ میں ان کے چھوٹے بھائی خالد بن سلمان بھی شریک تھے جو کہ سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع بھی ہیں۔

میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام تر ضروری اختیارات سعودی شہزدے کے بھائی خالد بن سلمان کو دے کر آرمی چیف سے ملاقات کو بھیجا گیا جس کے بعد انہوں نے بعد میں آرمی چیف سے ملاقات بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دورہ اور ملاقاتوں سے متعلق کوئی مشترکہ اعلامیہ بھی سامنے نہیں آیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی فرمانروا کی طبیعت ان دنوں ناساز ہے اور شہزادہ محمد بن سلمان زیادہ تر وقت کی دیکھ بھال میں گزارتے ہیں۔

علاوہ ازیں سینیئر تجزیہ کار عامر متین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ معاملات مزید خراب ہونے سے رک گئے ہیں، مگر ابھی بہتر نہیں ہوئے اور نہ ہی ان میں اتنا سدھار آیا ہے کہ یہ پہلی سطح پر آئے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران سعودی قیادت نے کسی مالی پیکج کا بھی اعلان نہیں کیا نہ ہی ان کی جانب سے کسی قسم کی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں