×

پاکستان میں کے دوران ایک اہلکار نے ابھینندن کی انکی اہلیہ سے سعودی عرب کے نمبر سے بات کروائی۔۔۔یہ کون تھا ؟نام جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان میں قید کے دوران ایک اہلکار نے ابھینندن کی انکی اہلیہ سے بات کروائی، برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایک جانب پاکستانی اہلکار ابھینندن پر معلومات کیلئے دباؤ ڈال رہے تھے

تو دوسری جانب ان کا ہی ایک آدمی ابھینندن کی اہلیہ سےفون پر ان کی بات کروا رہا تھا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طرح پاکستانی اہلکار ابھی نندن کے ساتھ ”گڈ کاپم بیڈ کاپ” کھیل رہے تھے یعنی ایک اہلکار آکر اس سے معلومات کیلئے ڈراتا تھا اور دوسرا اس سے اچھے انداز میں پیش آتا تھا تاکہ اس طرح بھارتی ونگ کمانڈر اچھی طرح پیش آنے والے اہلکار کو اپنا ہمدرد سمجھ کر سب کچھ بتا دے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستانی اہلکار کی جانب سے یہ کال سعودی عرب سے روٹ کی گئی تھی۔پھر اسی روز وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی پارلیمان میں اعلان کیا کہ ان کا ابھینندن کو قید میں رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، وہ اسے چھوڑ رہے ہیں۔ 28 فروری کو ہی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کرنے ہنوئی پہنچنے والے امریکی صدر ٹرمپ سے جب صحافیوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ‘میں سمجھتا ہوں جلد ہی آپ کو پاکستان سے ایک اچھی خبر سننے کو ملے گی۔ہم اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جلد ہی یہ حل ہو جائے گا۔’ اور صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے چند گھنٹے بعد ہی پاکستان نے ابھینندن کو بھارت کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا۔

بی بی سی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں امریکہ کے علاوہ سعودی عرب نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پلوامہ حملے کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پہلے پاکستان کا دورہ کیا پھر بھارت کا۔پلوامہ حملے سے قبل مودی حکومت نے سعودی حکومت کو بہت زیادہ توجہ دینی شروع کر دی تھی۔ شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ذاتی تعلقات مضبوط ہو چکے تھے۔ جب پلوامہ حملہ ہوا تھا تو سعودی حکومت نے پاکستان کا ساتھ دینے کے بجائے ایک سخت بیان جاری کیا تھا۔ اس حوالے سے بی بی سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اسلامی ممالک کو ساتھ رکھنے اور کشیندی کم کرنے کیلئے ابھینندن کو رہا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں