×

14 اگست : 2 روز قبل وہ مشہور پاکستانی شخصیت جس نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ٹھکرا دیا ۔۔۔ ایک حیران کن خبر

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان میں سندھی زبان کے معروف ادیب اور مصنف تاج جویو نے کچھ اعتراضات کی بنا پر صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔تاج جویو سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس) دینے کا اعلان کیا گیا تھا

نامور صحافی بلال کریم مغل بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جنھیں 23 مارچ 2021 کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دیے جائیں گے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تاج جویو کا کہنا تھا کہ انھوں نے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی صرف اپنے بیٹے سارنگ جویو کی مبینہ جبری گمشدگی کی وجہ سے نہیں بلکہ سندھ کے ساتھ ہونے والی ’دیگر ناانصافیوں‘ کی وجہ سے بھی مسترد کیا ہے۔اب خبر سامنے آئی ہے کہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی تاج جویو کے بیٹے سارنگ جویو کی گمشدگی کا معاملہ اپنے 17 اگست کے اجلاس میں اٹھائے گی۔کمیٹی نے اس اجلاس میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو بطور چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن اور آئی جی پولیس سندھ مشتاق احمد مہر کو طلب کیا ہے۔تاج جویو نے کہا کہ اگر ان کے بیٹے سارنگ جویو ’لاپتہ نہ کیے جاتے‘ تب بھی اس ایوارڈ کے بارے میں ان کا مؤقف یہی ہوتا۔انھوں نے کہا: ’ایک ایسے وقت میں جب سندھ میں سینکڑوں لوگ لاپتہ ہیں، مردم شماری کے اعداد و شمار تبدیل کیے جا رہے ہیں اور سندھ میں قومیتی توازن کو بدلا جا رہا ہے، ایسے میں یہ ایوارڈ لینا میرے ضمیر کے خلاف ہے۔‘تاج جویو کے بیٹے سارنگ جویو ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (زیبسٹ) کراچی میں سندھ ابھیاس اکیڈمی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ، اور سندھ سجاگی فورم نامی تنظیم کے جوائنٹ سیکریٹری ہیں۔نامور ادیب تاج جویو نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے سارنگ جویو کو سندھ کے مسائل پر آواز اٹھانے کی ‘سزا دینے’ کے لیے گرفتار کیا گیا ہے

وہ سندھ سے لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت غیر مقامی افراد کے سندھ کے ڈومیسائل بننے، اور مردم شماری وغیرہ سمیت کئی دیگر مسائل کے حوالے سے بھی سرگرم تھے۔تاج جویو نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو سندھ کے مسائل پر آواز اٹھانے کی ‘سزا دینے’ کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔ان کا الزام ہے کہ انھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا ہے، تاہم اب تک سرکاری طور پر اس کی کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ عجیب تماشا ہے کہ ایک طرف ان کا بیٹا جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے اور دوسری جانب ان کے لیے صدارتی ایوارڈ کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اجلاس کا ایجنڈا اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع کیا۔ انھوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں سندھ میں لاپتہ افراد کے یک نکاتی ایجنڈے پر اجلاس منعقد کیا جائے گا، اور پھر بلوچستان (کے حوالے سے)۔ انھوں نے مزید لکھا کہ آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی وجوہات پر غیر رسمی گفتگو کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلایا جائے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ، آئی جی، سیکریٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز، اور سندھ میں کام کرنے والے تمام انٹیلیجنس اداروں کے سربراہان کو بلایا جائے گا۔پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم این اے نفیسہ شاہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ایک طرف ریاست ان کی خدمات کا اعتراف کر رہی ہے

تو دوسری جانب ان کے بیٹے کو حقوق پر بات کرنے کے لیے گرفتار کر لیا گیا۔ انھوں نے سارنگ جویو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔اینکر پرسن سحر شاہ رضوی نے تاج جویو کی ویڈیو شائع کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب وہ سڑکوں پر اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، تب ان کو تمغہ برائے حسنِ کارکردگی پیش کرنا غیر انسانی عمل ہے۔صحافی و اینکر حامد میر نے لکھا کہ ایک باپ نے صدر سے ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کا بیٹا لاپتہ ہے، اس کا بیٹا صرف لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھا رہا تھا، اگر اس نے کوئی قانون توڑا تھا تو اسے کسی عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ کچھ ریاستی ادارے قانون کی تکریم کیوں نہیں کرتے؟تاج محمد جویو کا تعلق سندھ کے ضلع نوابشاہ (حالیہ بینظیرآباد) سے ہے۔ سنہ 1972 میں پرائمری استاد کے طور پر اپنے تدریسی کریئر کا آغاز کرنے کے بعد سے وہ سندھ کے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھاتے رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ سندھی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے قائم کیے گئے ادارے سندھی لینگویج اتھارٹی (ایس ایل اے) کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ تاج جویو سندھی ادبی سنگت کے سیکریٹری جنرل، سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) کے پریس اور کلچرل سیکریٹری، لوک ورثہ بورڈ اسلام آباد اور سندھ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی کے مشاورتی بورڈز کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔وہ مشہور صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی پر شائع ہونے والے تحقیقی مقالوں کو کتابی صورت میں بھی ترتیب دے چکے ہیں۔سندھ کے مشہور دانشور اور قوم پرست شخصیت سائیں جی ایم سید اور ان کے خاندان کے ساتھ بھی تاج جویو کی سیاسی اور ادبی وابستگی رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں