×

بحیرہ روم میں قدرتی وسائل کی تلاش،ترکی کے اعلان سے دشمنوں کی نیندیں اڑ گئیں

انقرہ (Pلیٹیسٹ نیوز پاکستان )وزیر ِ خارجہ میولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ ترکی نے مشرقی بحیرہ روم کے معاملے میں پیچھے قدم نہیں ہٹایا، اورچ رئیس ڈرلنگ بحری جہاز کو اور ہالنگ کے لیے بندر گاہ واپس لایا گیا ہے۔چاوش اولو نے ایک ٹیلی ویژن چینل کو اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ اورچ رئیس بحری جہاز کو ایندھن بھرنے

اور دیکھ بھال کے لیے انطالیہ کی بندر گاہ پر لنگر انداز کیا گیا ہے، جو کہ ایک معمول کی کاروائی ہے اس بنا پر ہم نے کوئی نیا ناوٹیکس جاری نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ باربروس اور یاوز بحری جہاز اپنے امور پر کا ربند ہیں۔میدان میں ماکسی مالسٹ مؤقف سے باز نہ آنے تک یونان کے ساتھ مصالحت قائم کرنا ناممکن ہونے پر زور دینے والے وزیر چاوش اولو کا کہنا تھا کہ ’’ جب تک یونان نے سیویلا نقشے سے پیچھے قدم نہ ہٹائے یہ تناؤ دور نہیں ہو سکتا۔ دونوں ہمسایہ ممالک براہِ راست بات چیت کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ پیشگی شرائط پر مصر رہتا ہے تو ہم بھی اسی پر جم جائینگے۔ یورپی یونین میں ترکی کے خلاف پابندیوں کے مطالبات کے بارے میں بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے جناب چاوش اولو نے بتایا کہ اس چیز کے متمنی فرانس، یونان اور قبرصی یونانی انتطامیہ ہیں لیکن ہم اس چیز کی توقع نہیں کرتے۔فرانسیسی صدر امینول ماکرون کے ایک اچھے سیاستدان نہ ہونے اور اپنے حلقے باہر نکلنے کی توضیح کرنے والے چاوش اولو نے بتایا کہ فرانس ہر معاملے میں ٹانگ اڑا رہا ہے، یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہے کہ لیڈر یہی ہے لیکن یہ محض باتوں سے نہیں ہوتا۔انہوں نے مزید بتایا کہ حقائق سامنے پر دیگر ممالک نے بھی ترکی کو حق بجانب ٹہرانا شروع کر دیا ہے۔ تمام تر ممالک ہماری رواداری سے آگاہ ہیں۔ لیکن یہ پھر بھی یونان کی صف میں شامل ہونے کو ترجیح دیں گے۔امریکہ کی جانب سے قبرصی یونانی انتطامیہ کو اسلحہ کی فروخت کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے ترک وزیر نے بتایا کہ اس ضمن میں اٹھائے گئے اقدام عالمی معاہدوں کے منافی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں