×

کرونا کی دوسری مگر خطرناک لہر ، وہ پاکستانی جو لازماً اس بار مہلک وبا کا شکار ہو سکتے ہیں ، جان لیں کہیں دیر نہ ہو جائے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) کرونا کی دوسری مگر خطرناک لہر ، وہ پاکستانی جو لازماً اس بار مہلک وبا کا شکار ہو سکتے ہیں ، جان لیں کہیں دیر نہ ہو جائے ۔۔۔۔وٹامن ڈی کی کمی کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھاسکتی ہے۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔شکااگو

میڈیسین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن افراد کو وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے اور وہ اس کا علاج نہیں کراتے، ان میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی تشخیص کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوسکتا ہے۔طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی کے شکاار فراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ک خطرہ ایسے افراد کے مقابلے میں 1.77 گنا زیادہ ہوتا ہے جن کے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح مناسب ہوتی ہے، یہ فرق کافی نمایں ہے۔تحقیق میں 489 ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں وٹامن ڈی کی سطح کی جانچ پڑتال کورونا وائرس کے ٹیسٹ سے کچھ ماہ پہلے ہوئی تھی جن افراد میں وٹامن ڈی کی کمی کو دریافت کیا گیا ان میں کووڈ 19 ٹیسٹ مثبت آنے کا امکان بھی زیادہ دیکھا گیا۔محققین نے بتایا کہ وٹامن ڈی کی کمی اور کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کے خطرے میں تعلق کو دیکھا گیا اور نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کرکے دیکھنا چاہیے کہ وٹامن ڈی کس حد تک کووڈ 19 کے خطرے پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وٹامن ڈی ایک جز زنک کے میٹابولزم پر اثرانداز ہوتا ہے جو کورونا وائرسز کی نقول کی صلاحیت کو گھٹا دیتا ہے۔انہوںنے کہاکہ جسم میں وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار انٹرلیوکین 6 کی سطح کو کم کرتی ہے جو کووڈ 19 کے مریضوں میں مدافعتی نظام کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی سے وائرس کی نقول بنانے کی صلاحیت کم ہونے سے اس کے پھیلاؤ میں بھی کمی آتی ہے تاہم محققین نے خبردار کیا کہ اگر وٹامن ڈی جسم میں ورم کو کم کردیتا ہے تو اس سے بغیر علامات والے مریضوں کی شرح بڑھ سکتی ہے جس سے وائرس کے پھیلاؤ کے اثرات کی پیشگوئی مشکل ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کام کرکے دیکھنا چاہیے کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس کس حد تک کورونا وائرس کا شکار ہونے اور اس کی شدت میں کمی لانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں اس سے پہلے برطانیہ کے 3 اہم ترین طبی اداروں سائنٹیفک ایڈوائزری کمیشن آن نیوٹریشن، نیشنل انسٹیٹوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلینس اور رائل سوسائٹی نے جون میں اپنی اپنی رپورٹس جاری کی تھیں جس میں کورونا وائرس اور وٹامن ڈی کے حوالے سے تفصیلات دی گئی تھیں،ان تینوں اداروں نے زور دیا کہ لوگوں کو وٹامن ڈی کی تجویز کردہ مقدار کے حصول کو یقینی بنائیں، جس سے نہ صرف کورونا وائرس کی شدت میں ممکنہ تحفظ مل سکے گا بلکہ یہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔عام حالات میں تو انسان قدرتی طور پر سورج کی روشنی کی مدد سے وٹامن ڈی کو بناتے ہیں جبکہ مخصوص غذاؤں جیسے انڈے، چربی والی مچھلی اور گائے کی کلیجی سے بھی اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔رائل سوسائٹی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس جز کی کمی کے نتیجے میں مسلز، دانتوں اور ہڈیوں کی صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔سائنٹیفک ایڈوائری آن نیوٹریشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایسے کچھ شواہد موجود ہیں جو وٹامن ڈی کی کمی کو انفیکشنز سے منسلک کرتے ہیں، خصوصاً نظام تنفس کی بیماریوں کی شدت بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔کورونا وائرس بھی نظام تنفس پر ہی سب سے پہلے حملہ آور ہوتا ہے جس کے بعد وہ جسم کے دیگر حصوں میں تباہی مچاتا ہے۔حالیہ مہینوں میں متعدد تحقیقی رپورٹس میں کورونا وائرس کی شدت میں اضافے اور وٹامن ڈی کی کمی کے درمیان تعلق کا ذکر کیا گیا ہے تاہم محققین کے مطابق دیگر عناصر بھی کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد اور شدت کی وضاحت کرسکتے ہیں، اور ابھی وٹامن ڈی سے اس کا تعلق بہت زیادہ ٹھوس نہیں۔تحقیقی رپورٹس میں لوگوں کو وٹامن ڈی اور کورونا وائرس کے حوالے سے مبالغہ آمیز دعوؤں سے بھی خبردار کیا گیا ہے خصوصاً سپلیمنٹس کی شکل میں بہت زیادہ وٹامن ڈی کا استعمال جسم میں کیلشیئم کے زہریلے مواد کے اجتماع کا باعث بنتا ہے اور گردوں کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ابھی اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ وٹامن ڈی کس حد تک کورونا وائرس پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں