×

15ستمبر کو تمام تعلیمی ادارے نہ کھولنے پر لانگ مارچ اور دھرنے ،حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

اسلام آباد(Pلیٹیسٹ نیوز پاکستان) جوائنٹ ایکشن کمیٹی پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز اینڈ مدارس الائنس نے 15ستمبر کو تمام تعلیمی ادارے نہ کھولے جانے پر لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ 15ستمبر سے پلے گروپ سے لے کر تمام تعلیمی اداروں کو کھولا جائے ، اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو ہم تعلیمی

ادارے کھولیں گے ، ہم حالات کا مقابلہ کریں گے،احتجاجی تحریک چلانا پڑی تو چلائیں گے،سات ماہ سے پرائیویٹ سیکٹر بحران کا شکار ہے ، ابھی تک حکومت کی کوئی واضح پالیسی ہمارے سامنے نہیں آئی، چالیس ہزار کے قریب تعلیمی ادارے مکمل بند ہو گئے، اس وقت 84فیصد والدین بھی تعلیم بحالی تحریک کا حصہ ہیں،ہم ہتھکڑیوں سے ڈرنے والے نہیں ، لانگ مارچ اور دھرنے کی تیاریاں مکمل ہیں، حکمرانوں کے لیئے ڈوب مرنے کا مقام ہے، تمہیں راتوں کو نیند کیسے آتی ہے ، وزرا ء کس بات کی تنخواہیں، پروٹوکول لے رہے ہیں، وزراء تعلیم اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتے ہیں،( آج) کے فیصلے کا انتظار کریں گے اس کے بعد باقاعدہ تاریخ دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار اتوار کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز اینڈ مدارس الائنس کے حکام کاشف مرزا ، ملک ابرار حسین ، مولانا عبدالقدوس محمدی اور ملک سفیر عالم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مرکزی صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوی ایشن ملک ابرار حسین نے کہا کہ جب لاک ڈائون شروع نہیں ہوا تھا تو تعلیمی ادارے بند ہو گئے، چار کروڑ بچے تعلیمی اداروں کی بندش سے شدید مایوسی کا شکار ہو گئے ، باقی محکمے بعد میں بند ہوئے تعلیمی ادارے پہلے بند ہو گئے، ہر محکمے کو ریلیف دیاگیا، ہماری ایک نہ سنی گئی، چالیس ہزار کے قریب تعلیمی ادارے مکمل بند ہو گئے، ہم نے15 اگست کو تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا تھا ، ہمیں حکومت کو تنبیہ کر رہے ہیں، 15ستمبر کو تعلیمی ادارے نہیں کھولیں گے تو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں لانگ مارچ بھی ہوگا دھرنا بھی ہو گا،وفاق المدارس کے ترجمان مولانا عبدالقدوس محمدی نے کہا کہ تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، اب مزید تعلیم کا سلسہ بند نہیں رہنا چاہیے، تعلیمی اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر کھولا جائے وفاق المدارس مدارس نے چار لاکھ طلبا ء کا امتحان لیا ، ایس او پیزکا خیال رکھتے ہوئے امتحانات کا انعقاد ہوا، انہوں نے کہا کہ ایس او پیز تشکیل دی جائیں ، نیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز کے صدر ملک سفیر عالم نے کہا کہ اس وقت شعبہ تعلیم انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کر رہا ہے،سات ماہ سے پرائیویٹ سیکٹر بحران کا شکار ہے ، ابھی تک حکومت کی کوئی واضح پالیسی ہمارے سامنے نہیں آئی، 15ستمبر کو ہر حال میں اپنے تعلیمی ادارے کھولیں گے، 15 ستمبر سے پلے گروپ سے لے کر تمام تعلیمی اداروں کو کھولا جائے حکومت ایسا نہیں کرتی تو ہم تعلیمی ادارے کھولیں گے ، ہم حالات کا مقابلہ کریں گے،احتجاجی تحریک چلانا پڑی تو چلائیں گے آل پاکستان پرائیویٹ سکولزفیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے کہا کہ اس وقت 84فیصد والدین بھی تعلیم بحالی تحریک کا حصہ ہیں ، 15 اگست کو تعلیمی ادارے کھلے، ایسا ایک کیس بھی نہیں جہاں ایس او پیز کی خلاف ورزی نظر آئی ہو، اس تحریک میں سول سوسائٹی ہمارے ساتھ ہے ، انہوںنے کہا کہ ہم لانگ مارچ بھی کریں گے اور دھرنا بھی دیں، ہم ہتھکڑیوں سے ڈرنے والے نہیں، لانگ مارچ اور دھرنے کی تیاریاں مکمل ہیں، حکمرانوں کے لیئے ڈوب مرنے کا مقام ہے، تمہیں راتوں کو نیند کیسے آتی ہے ،( آج) کے فیصلے کا انتظار کریں گے اس کے بعد باقاعدہ تاریخ دیں گے ، تمہیں پبلک سکول کھولنے کے لیئے پچاس ارب روپے چاہیئے تو جو تم خرچ نہیں کرنا چاہتے، کاشف مرزا نے کہا کہ 207ملکوں میں سے 105نے سکول بند ہی نہیں کیئے تھے، سکول ایس او پیز کے تحت کھولے جائیں،ہم ساڑھے سات کروڑ بچوں کی بات کر رہے ہیں، وزرا ء کس بات کی تنخواہیں، پروٹوکول لے رہے ہیں، 15لاکھ اساتذہ بے روزگار ہوئے، وزراء تعلیم اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں