×

جامعات میں قرآن پاک پڑھانے کی مخالفت، کس کس نے مخالفت کی؟ جانیے تفصیل

لاہور(Pلیٹیسٹ نیوز پاکستان )سرکاری جامعات میں قرآن پاک کی تعلیم دینے کا معاملہ، جی سی یو سنڈیکیٹ ممبرز نے قرآن پڑھانے کی مخالفت کردی، ایڈووکیٹ حنا جیلانی اور ساجدہ حیدر ونڈل نے قرآن پڑھنے کو ذاتی معاملہ قرار دیا۔تفصیلات کے مطابق جی سی یو سنڈیکیٹ ممبرز نے قرآن پڑھانے کی مخالفت کردی. ایڈووکیٹ حنا

جیلانی اور ساجدہ حیدر ونڈل نے قرآن پڑھنے کا ذاتی معاملہ قرار دیا. ایڈووکیٹ حنا جیلانی کا کہناتھا کہ سرکاری جامعات میں طلباء کو قرآن نہیں پڑھانا چا ہیے،پڑھانے سے جامعات میں فرقہ واریت پھیل سکتا ہے۔جامعات کے ماحول میں بد امنی پیدا ہو سکتی ہے، پروفیسر ساجدہ حیدر ونڈل اور قاضی ہمایوں فرید نے حنا جیلانی کے موقف کی تائید کی.قرآن پڑھانے کے معاملے پر حنا جیلانی کی دیگر سنڈیکیٹ ممبرز کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی.سنڈیکیٹ ممبرز نے حنا جیلانی کے اختلافی نوٹ کے ساتھ منظوری دی.واضح رہے کہ پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں میں قرآن حکیم بطور نصاب پڑھانے کے ایس او پیز جاری کردی گئی، قرآن حکیم کا نصاب پڑھنے کے بعد امتحان پاس کرنے کی شرط عائد کی گئی۔پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں میں قرآن حکیم کا نصاب پڑھانے کیلئے ضابطہ مقرر کیا جاچکا ہے۔ذرائع کے مطابق قرآن حکیم کا نصاب اسلامیات کے مضمون کے علاوہ پڑھایا جائے گا، قرآن حکیم کا نصاب یونیورسٹیوں میں بطور لازمی مضمون پڑھایا جائے گا۔قرآن حکیم کا نصاب ایک کریڈٹ آور پر مشتمل ہوگا اور ہفتے میں ایک گھنٹہ قرآن حکیم کی کلاس پڑھائی جائے گی۔یونیورسٹیوں میں طلبا کو قرآن حکیم اردو یا انگریزی میں پڑھنے کی آپشن دی جائے گی، قرآن حکیم کا نصاب یونیورسٹیوں میں بی ایس آنرز کلاسز میں پڑھایا جائے گا اور قرآن حکیم کے نصاب کی تیاری کا اختیار یونیورسٹیوں کو دے دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں