×

کیا اس وقت شمالی علاقہ جات گھومنے جانا درست ہو گا؟

وادی کالام(Pلیٹیسٹ نیوز پاکستان) میں سڑک کی بحالی پر کام جاری ہےخیبر پختونخوا اور گلگلت بلتستان کے سیاحتی مقامات پر سیلاب کی خبروں نے سیاحت کا ارادہ رکھنے والے افرد کو کشمکمش میں مبتلا کردیا ہے۔ بہت سارے لوگ سمجھ رہے ہیں کہ بالائی علاقے اس وقت ملک کے دوسرے علاقوں سے کٹے ہوئے ہیں مگر

صورتحال مختلف ہے۔خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں سیلاب کی دو لہریں آئیں۔ ایک ہفتہ قتل بالائی علاقہ مدین کے دو مقامات شاہ گرام اور تیرات میں سیلابی ریلے تقریبا 50 گھر اور 11 افراد کو بہالے گئے۔ ستمبر کے آغاز میں دوسری لہر کے دوران مزید 5 افراد جاں بحق اور متعدد گھر ملیامیٹ ہوگئے جبکہ انفرا اسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔اس وقت ضلع سوات کے تمام سیاحتی مقامات کے راستے کھلے ہیں۔ مالم جبہ، گبین جبہ، میاندم اور بحرین سے لیکر کالام تک سڑکوں پر معمولکے مطابق ٹریفک رواں دواں ہے۔ مزید بارشوں کا سلسلہ بھی تھم گیا ہے اور دریاؤں، ندیوں میں پانی کی مقدار بھی معمول پر آگئی ہے۔اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے ’غیرضروری سفر‘ سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جمعرات کو ڈپٹی کمشنر کے آفس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’کالام، بحرین، مالم جبہ اور دوسرے پہاڑی مقامات پر غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔‘ڈپٹی کمشنر آفس میں ایمرجنسی اور دیگر مسائل کی نشاندہی کے لیے کنٹرول روم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جہاں شہری سڑکوں کی صورت حال، لینڈ سلائیڈ اور دیگر مسائل کی نشاندہی کے لیے کال کر سکتے ہیں۔سوات میں سیلاب سے کتنا نقصان ہوا ہےضلع سوات کے علاقہ مدین کے اطراف میں شاہ گرام، بشیگرام اور تیرات کے پہاڑوں سے بہنے والی ندیوں میں سیلابی ریلوں کے باعث مجموعی طور پر 16 افراد جاں بحق اور 100 کے قریب گھروں کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے مگر ان سیلابی ریلوں نے سوات کی مرکزی شاہراہ (این 95) کو نقصان نہیں پہنچایا۔بحرین کے درال خوڑ میں شدید طغیانی کے باعث بازار میں دریا کنارے چٹان پر بنی مسجد اور اطراف میں کچھ عارضی کیبن بہہ گئے جبکہ بحرین اور کالام کو ملانے والا پل محفوظ رہا۔بحرین سے لیکر کالام کی مرکزی شاہراہ مکمل محفوظ ہے۔ کالام کے اطراف والے علاقوں میں متعدد پل اور لوگوں کے اپنی مدد آپ کے تحت بنائے گئے چھوٹے پن بجلی گھر بہہ گئے مگر تمام مرکزی شاہراہیں محفوظ ہیں۔مالم جبہ اور گبین جگہ کی سڑکیں بھی محفوظ ہیں اور ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ضلع دیر اپر اور کمراٹ کے میں بھی بارشیں ہوئی ہیں مگر کمراٹ تک جانے والی مرکزی سڑک کو کہیں بھی نقصان نہیں پہنچا۔ مقامی افراد کے کلکوٹ میں مطابق دریائے پنکوڑہ کے اطراف کھڑی فصلوں اور متعدد گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ مکرالہ میں سیلابی ریلے نے متعدد مکانات کو نقصان پہنچایا۔وادی کمراٹ میں کسی قسم کا سیلاب نہیں آیا اور ضلعی انتظامیہ نے بھی کسی قسم کی ایڈوائزری جاری نہیں کی۔ضلع اپر چترال کا زمینی رابطہ اس وقت منقطع ہے۔ لوئر اور اوپر چترال کے درمیان واقع ریشن گاؤں میں سیلابی ریلہ پل کو بہاکر لے گیا ہے۔ مقامی لوگ متبادل کے طور پر پیدل راستہ اختیار کر رہے ہیں۔لوئر چترال میں تمام مرکزی شاہراہیں اور محفوظ ہیں مگر ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کو چند دن نہ آںے کا مشورہ دیا ہے۔ہزارہ ڈویژن ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کے دفتر سے جاری ایڈوائزری میں بھی سیاحوں کی آمد پر پابندی کا کوئی ذکر نہیں مگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق ناران، کاغان اور شوگران جانے والے سیاح دریا، ندی، نالوں اور دیگر آبی گزرگاہوں کے نزدیک رکنے سے گریز کریں۔ دوران سفر گاڑیوں کی حالت اور بریک سسٹم اچھی طرح چیک کرلیں اور دریاؤں کے قریب سیلفیوں سے گریز کریں۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی مگر بروقت امدادی کارروائی نے لوگوں کو محصور نہیں ہونے دیا۔انہوں نے کہا کہ سیاحت پر کوئی پابندی نہیں مگر سیاحوں کو احتیاط سے کام لیتے ہوئے کچھ دنوں کیلئے سفر سے اجتناب کرنا چاہیے۔فیض اللہ فراق نے کہا کہ ’زیادہ تر لوگوں کو گلگت بلتستان کی لینڈ اسکیپ کے بارے میں علم نہیں ہے، انہیں چاہئے کہ وہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ہدایات پر عمل کریں۔ گلگت بلتستان میں بارشوں کے فورا بعد لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے جس وجہ انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں