×

آج کی سب سے بڑی بریکنگ نیوزعاصم سلیم باجوہ نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) لیفٹینٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ۔، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ صرف ایک عہدہ رکھیں گے تاکہ سی پیک منصوبے پر بھرپور توجہ دی جا

سکے، اسی وجہ سے وزیراعظم کے معاون خصوصی اطلاعات کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یہ عہدہ قبول نہیں کرناچاہتے تھے لیکن وزیراعظم عمران کے اصرار کی وجہ سے انہوں نے یہ عہدہ قبول کیا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات وچیئرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ نے بیرون ملک کاروبار کے حوالے سے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کردی ہے، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ میں اپنے اور اہلخانہ کے خلاف عائد کئے گئے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں،الحمدللہ ہماری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک اور کوشش بے نقاب ہوگئی ،میں نے عزت اور وقار کے ساتھ ملک کی خدمت کی ہے اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔عاصم سلیم باجوہ نے سات صفحات پر مشتمل تردیدی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک نامعلوم ویب سائٹ پر احمد نورانی نامی صحافی نے 27اگست کو میرے بارے میں خبر بریک کی تھی،جس کی میں سختی سے تردید کرتا ہوں،یہ غلط اور بے بنیاد ہے،خبر میں مجھ پر الزام لگایا گیا ہے کہ بطور معاون خصوصی میری طرف سے جمع کرائے گئے اثاثوں میں غلط معلومات دی گئی ہیں،کیونکہ میں نے اپنی اہلیہ کی بیرون ملک سرمایہ کاری کی تفصیلات نہیں دی ہیں،میرے بھائیوں کا امریکہ میں کاروبار ہے اور ان کا کاروبار پاکستان فوج میں میری ترقی کی وجہ سے پھلا پھولا ہے،میرے بھائیوں اور بچوں کے نام کمپنیوں،کاروبار اور پراپرٹیز کا تذکرہ کیا گیا ہے، جس میں ان کی لاگت اور پراپرٹی کے حوالے سے سلسلہ وار الزامات عائد کئے گئے ہیں،لہٰذا خبر میں لگائے گئے تمام الزامات کو میں غلط قرار دیتا ہوں۔اثاثوں کی تفصیلات میں معلومات چھپانے کا الزام غلط ہے،22جون2020ء کو میری اہلیہ اپنی تمام سرمایہ کاری سے دستبردار ہوچکی ہیں،جس دن میں نے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائی تھیں اہلیہ میرے بھائیوں کے بیرون ملک کاروبار میں شرکت دار نہیں تھیں،میری اہلیہ یکم جون 2020ء سے بیرون ملک ہر طرح کی سرمایہ کاری سے دستبردار ہوچکی ہیں اور امریکہ میں سرکاری ریکارڈ میں یہ حقائق دستاویزی طور پر موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں