×

سعودی عرب کی مشترکہ افواج کے نئے سربراہ مطلق الازیمع کون ہیں ؟انہوں نے کون کون سے کارنامے سرانجام دئیے ،تفصیلات جانیں اس خبرمیں

ریاض (Pلیٹیسٹ نیوز پاکستان )خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سےجاری ایک فرمان میں ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹننٹ جنرل مطلق بن سالم الازیمع کو سعودی عرب کی مشترکہ افواج کے کمانڈر انچیف کی ذمے داری سونپ دی گئی ہے۔مطلق الازیمع سعودی عسکری کمانڈر ہیں جنہوں نے ہمیشہ خود کو

سونپے گئے مشنوں کو کامیابی سے پورا کر کے میدان میں اپنی اہمیت اور قائدانہ مہارت کا ثبوت دیا۔انہوں نے کنگ عبدالعزیز ملٹری کالج میں آرمرڈ وہیکلز کے شعبے میں اسپیشلائزیشن کے ساتھ بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں مسلح افواج کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج سے ملٹری سائنسز میں ماسٹرز مکمل کیا۔ اس کے بعد ناصر ہائی ملٹری اکیڈمی کے کالج آف وار سے فیلو شپ حاصل کی۔مطلق الازیمع نے اپنی قائدانہ ذمے داریوں کا آغاز بطور آفیسر آرمر کے کیا۔ اس کے بعد سپلائی اینڈ مینٹیننس کے فیکش لیڈر بنے۔ یہاں تک کہ پہلی خلیجی جنگ کے دوران کویت کو آزاد کرانے کے آپریشن میں فورتھ انفینٹری ڈویژن کے کمانڈر بنے۔ اس کے بعد اسسٹنٹ کمانڈر آف بریگیڈ اور پھر کمانڈر آف بریگیڈ بنے۔خلیج تعاون کونسل کے زیر انتظام Peninsula Shield Forces کی کمان سنبھالنا مطلق الازیمع کے لیے بڑا چیلنج تھا۔ ان فورسز نے مملکت بحرین میں ہنگامہ آرائی اور فسادات بھڑکانے کے ایرانی منصوبے کو ناکام بنایا تھا۔بعد ازاں مطلق ساؤتھ ریجن کے کمانڈر بنے۔ علاوہ ازیں انہوں یمن میں ہونے والے فوجی آپریشنوں “عزم کی آندھی” اور “امید کی واپسی” میں عسکری کارروائیوں کے انتظامی امور پوری لیاقت کے ساتھ سنبھالے۔ بعد ازاں انہیں سعودی عرب کے مشرقی صوبے “الشرقیہ” کا کمانڈر بنا دیا گیا۔مطلق کے بھرپور اور وسیع عسکری تجربے کے پیش نظر انہیں وزیر دفاع کے دفتر میں عسکری مشیر مقرر کیا گیا۔بعد ازاں 1439 ہجری میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے مطلق الازیمع کو لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف بنا دیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ الازیمع جامع دفاعی منصوبہ بندی اور مسلح افواج کی مستعدی کی سطح کو بلند کریں۔واضح رہے کہ گذشتہ روز پیر کو جاری شاہی فرمان کے ذریعے مشترکہ افواج کے کمانڈر انچیف لیفٹننٹ جنرل فہد بن ترکی بن عبدالعزیز کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ ان پر بدعنوانی سے متعلق امور کے ساتھ تعلق کا الزام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں