×

دریائے سوات میں اونچے درجے کے سیلاب نے تباہی مچادی ، جانی نقصان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دریائے سوات میں اونچے درجے کے سیلاب نے تباہی مچادی ہے، 5 سالہ بچی سمیت 2 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ متعدد مقامات پر رابطہ پل تباہ اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔نجی ٹی وی رپورٹ کےمطابق دریائے سوات میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث ندی نالے بھی بپھر گئے ہیں، دریا کنارے آباد ہو ٹلز خالی کرالیے گئے ہیں۔کالاٹ کے مقام پرایک شخص
اور مدین میں 5 سالہ بچی دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئی، راحت کوٹ میں ایک شخص دریا میں ڈوب کر لاپتہ ہوگیا

جب کہ مدین میں ہی سیلاب میں پھنسے 13 افراد کو بچا لیا گیا۔بشی گرام پل بہنے کے بعد مدین کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، مدین اور بحرین میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے جس سے علاقے کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔پانی کی تیز موجوں سے جہاں رابطہ پل متاثر ہوئے ہیں وہی ٹراؤٹ مچھلی کے درجنوں فارمز بھی دریا برد ہو گئے ہیں، ضلعی انتظامیہ نے مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور سیاحوں کو علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔تیز بارش اور سیلابی پانی سے مختلف علاقوں میں بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا جس کے باعث لوگوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔قبل ازیں چیئرمین ڈیڈیک سوات فضل حکیم خان یوسفزئی نے سیلاب کے خدشے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کردی کسی بھی خطرے کے پیش نظر عوام کو بروقت تحفظ اور امداد فراہم کیا جائے ہر تحصیل سطح پر ریسکیو 1122، ٹی ایم اے، ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی بھی ہدایت کردی انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ سیلاب کا خدشہ ہے لہٰذا عوام کو دریائے سوات اور برساتی نالوں کے قریب نہیں جانا چاہئے اور جو لوگ دریا کے کنارے آباد ہیں وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائے انہوں نے کہا کہ حکومت ہر
صورت عوام کے ساتھ ہے اور کسی بھی مشکل حالت میں ان کو اکیلا نہیں چھوڑے گی انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیاحتی مقامات سے سیاحوں کو بھی محفوظ مقامات تک پہنچایا جائے اور سیلاب کے خطرے کے پیش نظر سیاحتی مقامات کو بند کیا جائے اور دریائے سوات کے قریب رہائش پذیر لوگوں کو اعلانات کئے جائے کہ وہ بھی محفوظ مقامات منتقل ہوجائے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر نوشہرہ نے حالیہ بارشوں کے سلسلہ میں الرٹ جاری کر دیا،تمام حکومتی مشینری عوام کی مدد کے لئے میسر ہوگی. بارش کی وجہ سے کسی قسم کے جانی نقصانات کے بارے میں ضلعی کنٹرول روم 9220098 0923پر فوری اطلاع دیں۔اطلاع کے مطابق محکمہ موسمیات کی جانب سے مسلسل چار روز تک بارشوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں مگر
برساتی نالوں میں طغیانی کی صورت میں دریائے کابل میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اس لئے دریائے کابل اور نشیبی علاقوں میں رہائش پزیر عوام فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیںاپنی جان اور تحفظ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ندی نالوں سے دور رہیں.نوشہرہ حالیہ شدید میں بارشوں کی وجہ سے دریاؤں اور ند ی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ۔پی ڈی ایم اے کے مطابق
برساتی پانی کے یہ ریلے دریائے سوات اور دریائے دریائیپانچکوڑہ سے دریائے کابل میں داخل ہو نگے جس چارسدہ اور نوشہرہ سے گزرنگے۔نوشہرہ میں خیبرآباد آٹک کے مقام پر دریائے سندھ میں بھی پانی کے بھاو ٗ میں بھی آضافہ ہوگا۔نوشہرہ اور چارسدہ کے دریاؤں پانی کا ریلہ رات گئے تک پہنچنے کا امکان۔ڈپٹی کمشنر نوشہرہ نے حالیہ بارشوں کے سلسلہ میں الرٹ جاری کر دیا۔ضلعی انتظامیہ نے
نوشہرہ ڈپٹی کمشنرافس میں کنٹرول روم قائم کردیاہے۔تمام حکومتی مشینری عوام کی مدد کے لئے میسر ہوگی. بارش کی وجہ سے کسی قسم کے جانی نقصانات کے بارے میں ضلعی کنٹرول روم 0923 9220098 پر فوری اطلاع دیں. اطلاع کے مطابق محکمہ موسمیات کی جانب سے مسلسل چار روز تک بارشوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں مگر برساتی نالوں میں طغیانی کی
صورت میں دریائے کابل میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اس لئے دریائے کابل اور نشیبی علاقوں میں رہائش پزیر عوام فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔اپنی جان اور تحفظ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ندی نالوں سے دور رہیں.نوشہرہ میں سوات کا ریلہ 8 بجے کے قریب داخل ہوگا سر دریاب اور دریائے خیلالی اور چیندے کے قریب جتنے بھی ابادی ہے ان کے لئے سکولوں میں
انتظامات کر دیئے گئے ہیں اور مساجد میں علانات کر دیے گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نوشہرہ میر رضاء اوزگن کے زیرصدارت موجودہ طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے حوالے سے میٹنگ منعقد ہوا۔ جسمیں ریسکیو 1122 نوشہرہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر میر عالم خان سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر میر عالَم خان نے بریفنگ دیتے ہو ئے بتایاکہ حالیہ طوفانی بارشوں کی وجہ سے دریائے کابل میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے ریسکیو 1122 واٹر ریسکیو ٹیمیں مختلف مقامات پر تشکیل دی گئی ہیں۔ اور سیلاب کے خطرہ سے نمٹنے کے لیے ریسکیو سٹاف کی تیاریاں مکمل ہے اور ہر دم کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے ۔

موضوعات:دریائے سوات میں اونچے درجے کے سیلاب نے تباہی مچادی

کوئی ایک جوزف بازل

یہ آج سے اڑھائی سو سال پہلے کی بات ہے‘ 1750ءسے 1810ءکے درمیان لندن کی آبادی 15 لاکھ تک پہنچ چکی تھی‘ آبادی کے لحاظ سے اس وقتیہ دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا‘ لندن میں سر ہی سر نظر آتے تھے‘ شہر منصوبہ بندی کے بغیر بڑا ہوا تھا چنانچہ سڑکیں‘ بازار اور رہائشی آبادیاں لوگوں ….مزید پڑھئے‎

یہ آج سے اڑھائی سو سال پہلے کی بات ہے‘ 1750ءسے 1810ءکے درمیان لندن کی آبادی 15 لاکھ تک پہنچ چکی تھی‘ آبادی کے لحاظ سے اس وقتیہ دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا‘ لندن میں سر ہی سر نظر آتے تھے‘ شہر منصوبہ بندی کے بغیر بڑا ہوا تھا چنانچہ سڑکیں‘ بازار اور رہائشی آبادیاں لوگوں ….مزید پڑھئے‎

اپنا تبصرہ بھیجیں