×

اہلِ کراچی پر ایک قیامت گزر گئی وفاقی ،صوبائی اور مقامی حکومتیں ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات میں مصروف رہیں،مفتی منیب الرحمن برس پڑئے

کراچی(آن لائن) مفتی منیب الرحمن نے ممتاز علمائے اہلسنت مفتی محمد جان نعیمی ، مفتی محمد رفیق حسنی،مفتی محمد الیاس رضوی ،صاحبزادہ ریحان امجد نعمانی ،علامہ رضوان نقشبندی ،مفتی عابد مبارک ، علامہ سید مظفر شاہ ،مولانا بلال سلیم قادری ، ثروت اعجازقادری اور تاجر برادری کی نمائندہ شخصیات کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ کراچی پر ایک قیامت گزر گئی،جبکہ وفاقی ،صوبائی اور مقامی حکومتیں ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات میں مصروف رہیں، یہ اہلِ کراچی کے ساتھ نہایت سنگ دلانہ رویہ ہے۔ حکومتوں کی نا اہلی تو ہمارے ہاں ایک مسلّم

امر ہے ، لیکن اس سال مون سون بارشوں کا سلسلہ بھی غیر معمولی رہا ،بعض اخبارات کے مطابق نوّے سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ ایریاز کالینڈ کنٹرول کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس ہے، مگر ڈی ایچ اے میں اْس کا انفرااسٹرکچر بھی ناکام ثابت ہوا اورتاحال اس کی نکاسی نہیں ہوسکی۔کراچی کے کئی علاقوں میں پانی گھروں ، دکانوں اور مساجدکے اندر چلا گیا ،لوگوں کا گھریلو اور تجارتی سازوسامان حتیٰ کہ بیٹیوں کا جہیز تک برباد ہوا، بعض علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو نکالا گیا، بعض مقامات پر مکان گرے اور مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ جانی نقصانات بھی ہوئے ہیں، بعض لوگوں کی لاشیں نالوں سے ملیں ، یہ انسانیت کے لیے ایک اذیت ناک امر ہے۔ وفاقی ،صوبائی اور مقامی حکومتیں اپنا اپنا دامن جھاڑ کر دوسروں کو ذمے دار قرار دیتی رہیں، بلیم گیم کا سلسلہ جاری رہا، بعض وفاقی وزرائ نے کراچی کے دورے کیے ، لیکن فوٹو سیشن کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔یہ دکھی انسانیت کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، ہم اپنی دینی، ملّی اور قومی ذمے داری سمجھتے ہیں کہ کراچی کے المیے پر توانا آواز بلند کریں۔  وزیرِ اعظم پاکستان ِ عمران خان اور صوبہ سندھ کیحکومت سے ہمارامطالبہ ہے کہ کراچی کے المیے کو معمولی نہ سمجھا جائے، شہر کا انفرااسٹرکچر برباد ہوچکا ہے ، سڑکیں ناکارہ ہوچکی ہیں ،سیوریج لائن کا نظام فیل ہوچکا ہے ، پانی کی سپلائی ضرورت سے کم ہے ،موبائل سروس، انٹرنیٹ اور بجلی کا نظام بھی بالکل ناکام ہوچکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کے الیکٹرک کو نہ وفاقی حکومت کی کوئی پروا ہے اور نہ ہماری اعلیٰ عدالتوں کی، لوگ حیران ہیں کہاس ادارے کے پیچھے کون سی غیبی طاقت ہے کہ حکومت اْس پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے اور کوئی باز پرس بھی نہیں ہورہی، مَن مانے بل وصول کیے جارہے ہیں ، ان کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے اور خیانت اور دھوکا دہی سے عوام سے لی گئی رقوم واپس ہونی چاہییں۔نالوں ، فٹ پاتھوں اورخالی جگہوں پر تجاوزات قائم کی گئیں ، کے ایم سی ،کے ڈی اے،واٹر بورڈ، ڈی ایم سیز، ایم ڈی اے اورایل ڈی اے کےلینڈ کنٹرول کے باقاعدہ محکمے ہیں ، افسران کی بھرمار ہے ، سوال یہ ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے یہ سب کچھ کیسے ہوا، نیز کون سی سیاسی اور حکومتی قوتیں تھیں جن کی چھتری تلے یہ کام ہوتے رہے اور قانون اندھا اور بہرہ ہوگیا۔ کراچی کا انفرااسٹرکچر (سڑکیں، سیوریج لائن، واٹر لائن ، الیکٹرک سسٹم وغیرہ )ڈھائی کروڑ کی آبادی کے لیے ہرگز نہیں بنایا گیا تھا، نہ اس کے بناتے وقت لاکھوں کیتعداد میں فلیٹس کا کوئی تصور تھا، مگر انفرااسٹرکچر کو بدلے اور توسیع دیے بغیر یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ہمارا وزیر اعظم سے مطالبہ ہے کہ کراچی کی بحالی کے لیے فوری اور دیرپا منصوبے بنائے جائیں،وزیر اعظم کراچی کی تاریخی تباہی کے ازالے اور بحالی کے لیے تاریخی پیکج کا اعلان کریں، اہلِ کراچی کے لیے یہ کرونا پلس سے بھی زیادہ بڑی آفت ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور گڑھوں کیمرمت فوری طور پر کی جائے، ورنہ یہ سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوجائیں گی اور حادثات کا بھی سبب بنیں گی۔ شہر کی موجودہ ضروریات کے مطابق سیوریج لائنیں بچھائی جائیں جوبارش کے پانی کا دباؤ برداشت کرسکیں ، موجودہ سیوریج لائنیں آئے دن جابجا چوک ہوجاتی ہیں اور پانی ابل کر سڑکوں پر بہتا رہتا ہے اور سڑکوں کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔ کے الیکٹرک کے ترسیلی نظام کوشہر کیضرورتوں کے مطابق بنایا جائے، جو بارش اور ہر موسم میں کارآمد رہے اور اس بات کی بھی تحقیق کی جائے کہ کے الیکٹرک نے پاکستانی بنکوں سے صکوک کے عوض جواربوں روپے لے رکھے ہیں، وہ کہاں خرچ ہوئے۔ جب تک تیسر ٹاؤن، ہاکس بے اور اسکیم 33کا ترقیاتی کام مکمل نہ ہوجائے ، سندھ گورنمنٹ کی طرف سے کوئی اور ہا?سنگ اسکیم لانچ کرنے پر پابندی عائد کی جائے اور ایم ڈی اےاور ایل ڈی اے کے مالی معاملات کافرانزک آڈٹ کیا جائے، دوسال پہلے نئی اسکیم کے نام پر ایم ڈی اے نے پبلک سے جو پیسا وصول کیا، وہ کہاں ہے۔ جب تک قبرستان، مسجد ، اسکول ، کالج ، اسپتال اور پارک کے لیے آبادی کے تناسب سے رفاہی پلاٹ نہ رکھے جائیں،کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ ہاوسنگ اسکیم کی منظوری نہ دی جائے۔گزشتہ ادوار میںچائنا کٹنگ کے ذریعے فٹ پاتھوں، پارکوں پراورنالوں پرقبضے کیے گئے ہیں ، ان کی شفاف اور غیرجانبدارانہ انکوائری کی جائے اور ذمے داروں کو قانون کی گرفت میں لیا جائے۔ حالیہ بارشوں میں جو لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں ،اْن کے لواحقین کو قومی معیار کے مطابق زرِ اعانت دیا جائے۔نالوں پر سے تجاوزات ختم کر کے اپنی اصل شکل میں بحال کیا جائے اور متاثرین کی بحالی کا متبادل انتظام کیا جائے۔ کراچی کے نالوں کے بند ہونے کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا ،جب تک کہ شہر کے گلی کوچوں سے کچرا اٹھانے اور اْسے شہر سے باہر لے جاکر مقررہ مقام پر ڈمپ کرنے کا انتظام نہ ہو، جب تک یہ نہیں ہوگا ، یہ شیطانی چکر چلتا رہے گا، نیز گلی کوچوں اور پارکوں میں کچرا پھینکنے کو تعزیری جرم قرار دیا جائے اور اْس کے لیے مناسب سزائیں مقرر کی جائیں ،لوگوں کو قانون کی طاقت سے شہری اَقدار کاپابند کیا جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحریہ ٹاؤن کےمالک ملک ریاض حسین صاحب سے جو چار سو ساٹھ ارب روپے وصول کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، اْس رقم کا تعلق کراچی کی زمینوں سے ہے۔لہٰذا چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد سے ہماری اپیل ہے کہ ایک با اختیار ٹرسٹ بناکر اس رقم کو سپریم کورٹ آف پاکستان کی نگرانی میں کراچی کے انفرااسٹرکچر کی بحالی اور ترقیات پر خرچ کیا جائے ، آپ کا تعلق کراچی سے ہے ،یہ کراچی اور اہلِ کراچی پر آپ کا احسان ہوگا۔ چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے اگر سونے کی پٹریوں پر بھی چلائی جائے ، تو یہ بے فیض رہے گی، یہ سابق صدر محمد ایوب خان مرحوم کے زمانے میں بنی تھی اور اْس وقت کے حالات کے تحت کراچی کی ضروریات کو کسی حد تک پورا کرتی تھی، مگر 1970اور1980کے عشرے ہی میں یہ ناکام ہوچکی تھی، ریلوے کیبوگیاں خالی چلتی رہتی تھیں ، یہ روٹ اب کارآمد نہیں ہے۔ کراچی کی ضرورت لاہور کی اورنج ٹرین کی طرح یا دبئی کی فلائی اوور ٹرین کی طرح جدید ٹرین کا نظام ہے، جو مین شاہراہوں پر چلے، لوگ اپنے قریبی اسٹیشن سے اس میں بیٹھیں اور اپنی منزل کے قریب جاکر اتر سکیں۔ سندھ حکومت نے صوبہ سندھ کے کئی اضلاع سمیت کراچی کو آفت زدہ قرار دیا ہے ،لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس اعلان کا فائدہ کراچی ،حیدر آباد اور سندھ کے متاثرہ اضلاع کو کیا ملے گااور کیسے ملے گا، اس کی وضاحت مطلوب ہے۔  برسوں سے زیرِ التوا گرین لائن منصوبے کو فوری طور پر مکمل کیا جائے۔ ہم نے 29جولائی کو اسی ہال میں پریس کانفرنس کر کے قومی سلامتی کے اداروں کو نہایت دردِ دل کے ساتھ متوجہ کیا تھا کہ ملک کو کسی داخلی یا بین الاقوامی سازش کے تحت فرقہ ورانہ تصادم کی طرف دھکیلا جارہا ہے ،لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ہماری گزارشات پر توجہ نہیں دی گئی۔ چنانچہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تسلسل کے ساتھ عام مجالس میں صحابہ کرام کی توہین کا گستاخانہ اور مجرمانہ سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے ،اس کے محرّکات غیر ملکی بھی ہوسکتے ہیں اورملک کے اندر بھی کوئی ایسی طاقت ہے جو مجرموں کو تحفظ دے رہی ہے، ایک مجرم کو توراتوں راتبرطانیہ بھیج دیا گیا ہے ،لوگ بعض وفاقی اور صوبائی وزرا کی طرف انگلیاں اٹھارہے ہیں اور ہمیں اس میں کوئی نہ کوئی صداقت نظر آرہی ہے۔ چنانچہ اسلام آباد میں بھری مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تکفیر کی بات کی گئی اور کراچی میں نمازِ ظہرین کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر صحابہ کرام پر لعن طعن کی گئی ،جو سوشل میڈیا اور بعض چینلز پر براہِ راست نشر ہوئی ، پاکستان کیتاریخ میں ماضی میں ایسی ناپاک جسارت کرنے کی کسی کوہمت نہیں ہوئی۔ ناموسِ الوہیت جَلَّ وَعَلَا ،ناموسِ رسالت مآب صَلَّی اللّٰہْ عَلَی ہِ وَآلِہِ وَسَلَّم  ، ناموسِ اہلبیتِ اطہاروناموسِ صحابہ ؓ کرام رِض وَانْ اللّٰہِ عَلَی ھِم اَج مَعِی ن اور ناموسِ مقدّساتِ دین کی حرمت کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ایک طرف اتحاد، اخوت اور رواداری کے پیغامات دیے جائیں اور دوسری طرف زبانوں سےنفرت اور فتنہ انگیزی کے شعلے اگلے جائیں ، اب یہ منافقت نہیں چل پائے گی۔ وزیرِ اعظم کی ذمے داری ہے کہ اپنی صفوں کا جائزہ لیں اور پتاچلائیں کہ ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کے لیے حکومت کی صفوں میں موجود کون سے عناصر مصروفِ عمل ہیں۔ ہم ایک بار پھر وزیرِ اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کو براہِ راست متوجہ کر رہے ہیں کہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت ہوگئی ہے۔اگر فوری تدارک نہ کیا گیا تو پہلے مرحلے پر ہم کراچی میں تاریخ کی سب سے بڑی پرامن ریلی کا اہتمام کریں گے اور اس کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا جائے گا،ان شائ اللہ تعالیٰ۔ اب بھی ہماری خواہش ہے کہ سیاسی اور دفاعی قیادت ایکشن میں آئے اور اس کے اقدامات ہر ایک کو نظر آئیں، ہمارا ملک کسی بے امنی اور انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہماری سرحدوں کےچاروں طرف کی صورتِ حال انتہائی حساس ہے ، جب پرامن رویوں کو نظر انداز کردیا جائے ، امن پسندی کوکمزوری سمجھا جائے تو پھر لوگوں کے پاس احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا، ہم نہیں چاہتے کہ ملک دشمن قوتیں اور سیاسی عناصر اس مذہبی بے چینی سے فائدہ اٹھاکر اسے اپنے حق میں استعمال کریں۔

موضوعات:مفتی منیب الرحمن

کوئی ایک جوزف بازل

یہ آج سے اڑھائی سو سال پہلے کی بات ہے‘ 1750ءسے 1810ءکے درمیان لندن کی آبادی 15 لاکھ تک پہنچ چکی تھی‘ آبادی کے لحاظ سے اس وقتیہ دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا‘ لندن میں سر ہی سر نظر آتے تھے‘ شہر منصوبہ بندی کے بغیر بڑا ہوا تھا چنانچہ سڑکیں‘ بازار اور رہائشی آبادیاں لوگوں ….مزید پڑھئے‎

یہ آج سے اڑھائی سو سال پہلے کی بات ہے‘ 1750ءسے 1810ءکے درمیان لندن کی آبادی 15 لاکھ تک پہنچ چکی تھی‘ آبادی کے لحاظ سے اس وقتیہ دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا‘ لندن میں سر ہی سر نظر آتے تھے‘ شہر منصوبہ بندی کے بغیر بڑا ہوا تھا چنانچہ سڑکیں‘ بازار اور رہائشی آبادیاں لوگوں ….مزید پڑھئے‎

اپنا تبصرہ بھیجیں