×

اکثر لوگ کراچی کی صفائی کے مسئلہ پر ہاتھ کی صفائی کو ترجیح دیتے ہیں،چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم عمران خان کو کراچی بارے انتہائی مفید مشورہ دیدیا

لاہور(Pلیٹیسٹ نیوز پاکستان) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کراچی کی حالت زار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی ادوار گزرے، کئی لوگ اقتدار میں آئے اور چلے گئے تاہم کراچی ہمیشہ سیاسی بیان بازی کی نظر ہو جاتا ہے، کراچی میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومت رہی، گونر راج بھی رہا، میئر اور ایڈمنسٹریٹر بھی تعینات رہے مگر افسوس ایک دوسرےپر الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں کیا گیا، اکثر سب ایک دوسرے پر الزامات لگا کر بری الذمہ ہوتے رہے اور ہمیشہ اقتدار اور اختیارات کا رونا رویا گیا،

کراچی کے اہم مسائل میں گندے اور صاف پانی کا مسئلہ نمایاں ہے۔ صفائی کے مسئلے کو اجاگر توکیا گیا لیکن عملی طور پر شہر کی صفائی کی بجائے اپنی صفائی کو اہمیت دی گئی، اکثر لوگ کراچی کی صفائی کی بجائے ہاتھ کی صفائی دکھاتے ہیں، یہاں پر اختیارات کا مطلب صرف پیسے ہیں۔ اپنے بیان میں چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ آج تک صرف یہی کہا گیا کہ فلاں علاقے میں یہ مسئلہ ہے، کبھی صفائی کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے، کبھی بارشی پانی کا اور کبھی پینے والے پانی کا لیکن اس کو درست کرنے کیلئے آج تک کوئی کام نہیں کیا گیا، جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ میئر کام کرے گا، میئر سے پوچھا جائے تو وہ کہتے ہیں میرے پاس اختیارات نہیں، جس کو صفائی کا موقع دیا جاتا ہے تو سب اپنی صفائی پیش کرنے لگ جاتے ہیں، جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو پھر فوج کو درخواست کی جاتی ہے کہ وہ آئیں اور جھاڑو پھیرنے کا کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ وزیر اعظم خود کراچی میں ایک ہفتہ رہیں اور کراچی کے ہر مسئلے کو خود مانیٹر کریں اور ہدایات جاری کریں، اپنی سوچ کے مطابق وقت کا تعین کریں اور اس دن دوبارہ جائیں اور دیکھیں کہ ان کے احکامات پر عمل ہوا ہے یا نہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہاکثر کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو اور بھی بڑے مسائل کا سامنا ہے کیا بس کراچی کا مسئلہ رہ گیا ہے کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے، ہر سال کراچی ڈوب جاتا ہے لیکن بیانات صرف یہی آتے ہیں کہ فلاں نے کراچی کو ڈبو دیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا مسئلہ اختیارات کا نہیں بلکہ انتظامی امور کے متعلق پالیسی بنانا ہے اس کیلئے صاحب اقتدار لوگ صرف بیانات نہ دیں بلکہ ملبہ کسی اور پر ڈالنے کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز کی مرضی شامل کریںاور سارے لوگ اپنی اپنی تجاویز دیں تاکہ کراچی میں جو بھی مسئلہ ہو اس کو فوری حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گندگی پھیلانے والوں کا بھی سدباب کیا جائے، اگر صفائی نہیں کر سکتے تو پھر گندگی بھی نہ پھیلائیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ارجنٹائن کے وزیراعظم کی مثال سب کے سامنے ہے کہ وہ صفائی والے کپڑے پہن کر گلیوں میں صفائی کرتی تھی جبکہ وہ یہ بھی کہہ سکتی تھیں کہ یہ میرا کام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جب کچھ نہ بن پڑے تو وزیراعظم کو تجویز دی جاتی ہے کہ آپ جھاڑو پھیرنے والاکام فوج سے کروائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں