×

صحافی احمد نورانی کا جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ پر بزنس ایمپائر بنانے کا الزام، عاصم سلیم باجوہ کی پرزور تردید

اسلام آباد (Pلیٹیسٹ نیوز پاکستان+ مانیٹرنگ) معاون خصوصی اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ میرے اور میرے خاندان کے خلاف ایک نامعلوم ویب سائٹ پر پروپیگنڈا کیا گیا ہے، گمراہ کن خبر کی تردید کرتا ہوں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ میرے اور میرے خاندان کے خلاف ایک نامعلوم ویب سائیٹ پر پروپیگنڈا کیا گیا ہے،ایک انتہائی گمراہ کن خبر چھاپی گئی ہے،اس خبر کی سختی
سے تردید کرتا ہوں۔ آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے اپنے خاندان کے اثاثوں سے متعلق رپورٹ کی تردید کی

ہے۔ واضح رہے کہ صحافی احمد نورانی نے اپنے ٹوئٹ میں 40 ملین ڈالر اور 99 کمپنیوں کا الزام لگایا تھا، بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جولائی میں جب حکومت نے وزیر اعظم کے معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کیں تو سوشل میڈیا پر ان کو خوب پذیرائی ملی اور یہ عوام کے دلچسپی کا مرکز بنی رہیں۔ معاونین خصوصی کے اثاثوں اور شہریت کے معاملے پر کوئی تو دفاع کرتا نظر آیا جبکہ کچھ لوگ تنقید بھی کرتے رہے۔ اسی معاملے پر گزشتہ روز 27 اگست کو صحافی احمد نورانی نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کے کاروبار سے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ‘فیکٹ فوکس’نامی ویب سائٹ پر شائع کی، ۔اپنے مضمون میں احمد نورانی لکھتے ہیں کہ عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی 4 ممالک میں 99 کمپنیاں، 130 سے زیادہ فعال فرنچائز ریسٹورنٹس اور 13 کمرشل جائیدادیں ہیں جن میں سے امریکہ میں دو شاپنگ مال بھی شامل ہیں۔ احمد نورانی کی رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کرائی گئی اثاثہ جات کی فہرست میں معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ نے اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ متعلقہ کالم میں باقاعدہ‘نہیں ہے‘
لکھا گیا ہے۔احمد نورانی نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تحقیق کے مطابق لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا اپنے شوہر کے بھائیوں کے قائم کردہ باجکو گروپ کے تمام کاروباروں میں ان کے ساتھ برابر کی حصہ دار اور مالک ہیں۔ فیکٹ فوکس کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عاصم باجوہ کے بیٹوں نے بھی اس گروپ میں 2015 میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان اور امریکہ میں مزید
نئی کمپنیوں کی بنیاد اس وقت رکھی جب ان کے والد آئی ایس پی آر کے سربراہ تھے اور پھر بعد میں کمانڈر سدرن کمانڈ بلوچستان بن گئے تھے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جاری کیے گئے اثاثہ جات کی فہرست میں عاصم سلیم باجوہ نے اپنی اہلیہ کے نام پر خاندانی کاروبار میں صرف 31 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ظاہر کی اور اس حلف نامے کے آخر میں تصدیق کی کہ میری، اور میری بیوی کی اثاثہ جات کی فہرست نہ صرف مکمل اور درست ہے
بلکہ میں نے کوئی چیز نہیں چھپائی۔احمد نورانی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت کی سرکاری دستاویزات کے مطابق عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا امریکہ میں 13 کمرشل جائیدادیں ہیں، جن میں 2 شاپنگ سنٹر بھی شامل ہیں اور وہ ان کی مشترکہ مالکن ہیں اور تین ممالک میں 82 کمپنیوں میں ان کے سرمائے کی کل مالیت تقریباً 40 ملین ڈالر ہے جس کی وہ عاصم باجوہ کے بھائیوں کے ساتھ برابر کی مالکن ہیں۔اس پر سوشل میڈیا
پر باجوہ لیکس ٹاپ ٹرینڈ بن گیا جس میں عاصم باجوہ کے خلاف ٹویٹ کرنیوالے وہ افراد ہے جو پاک فوج کے مخالف ہیں اور ن لیگ، پیپلزپارٹی یا اے این پی کے حامی ہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے جنرل باجوہ از آور پرائڈ کے نام سے ٹرینڈ بنادیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ ٹرینڈ چلانے والے وہ لوگ ہیں جنہیں پاک فوج اور سی پیک سے ذاتی بغض ہے۔ان الزامات پر ٹوئٹر پر عاصم باجوہ نے دو ٹوک انداز میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ‘ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں۔خیال رہے کہ جنرل عاصم باجوہ سی پیک اتھارٹی کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں