×

پنجاب پولیس کے افسران کیخلاف سرکاری فنڈز کی خردبرد کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، اہم شخصیت وعدہ معاف گواہ بن گئی،ہوشربا انکشافات

لاہور( Pلیٹیسٹ نیوز پاکستان)پنجاب پولیس کے افسران کے خلاف سرکاری فنڈز کی خردبرد کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے ،پولیس فنڈز خوردبرد کیس میں اکائونٹنٹ رضوان اشرف وعدہ معاف گواہ بن گئے۔نجی ٹی وی کے مطابق رضوان اشرف نے الزام لگایا کہ پولیس افسر رائے اعجاز 12لاکھ پٹرول کی مد میں بطور رشوت ماہانہ وصول کرتے رہے، پٹرول کی مد میں ماہانہ 12لاکھ روپے ایم ٹی او اختر شاہ کےساتھ مل کر قومی خزانے سے نکالتے رہے۔ رائے اعجاز نے بھائی کی شادی میں 40لاکھ روپے کے تحائف قومی خزانے سے ادا کیے۔ رائے اعجاز آسٹریلیا میں بیگم کو

سرکاری خزانہ سے ماہانہ خرچہ بھیجتے رہے۔ رائے اعجاز ملتان میں ایک خاتون کو سرکاری خزانے سے میرے ذریعے پیسے بھجواتے رہے۔رضوان اشرف کے مطابق رائے ضمیر 28لاکھ روپے ماہانہ پٹرول کی مد میں وصول کرتے رہے۔ گجرات کے نجی ہوٹل میں رقص وسرور کی محفلیں قومی خزانے سے سجائی جاتی رہیں۔ شہدا ء کے فنڈز، پولیس انوسٹی گیشن فنڈز اور ریٹائرمنٹ فنڈز میں سے خوردبرد کی گئی۔ گانا بجانے والوں کو قومی خزانے رقوم میرے ذریعے منتقل کی گئیں۔ رائے ضمیر سابق آئی جی شوکت جاوید کو 50ہزار ماہانہ قومی خزانے سے ادا کرتے رہے۔سابق ڈی پی او گجرات سہیل ظفر چٹھہ کو 3ماہ میں 68لاکھ روپے قومی خزانے سے ادا کیے گئے۔ گجرات میں سہیل ظفر کی فیملی نے ورلڈ الیکٹرانکس نامی دکان سے 11لاکھ کی الیکٹرانک اشیاء ایک دن میں خریدیں۔ سہیل ظفر چٹھہ نے سابق ڈی آئی جی احمد مبارک کو سرکاری گاڑیاں الاٹ کیے رکھیں۔ سہیل ظفر چٹھہ کے بھائی کو ڈیڑھ لاکھ ماہانہ، بیوی کو دو لاکھ ماہانہ اور خود دو لاکھ روپے ماہانہ جیب خرچ وصول کرتے رہے۔ گجرات سے پیسے پنڈی بھٹیاں لائے جاتے، بنکوں میں منتقل کے جاتے اور زرعی انکم ظاہر کی جاتی۔ سہیل ظفر نے 25سے 30لاکھ ذاتی گھر کی تزئین و آرائش پر لگائے۔کامران ممتاز 3مہینے ڈی پی او رہے اس دوران میں نے ان کو بھی 25لاکھ روپے ادا کیے۔ کامران ممتاز کی بیوی کو 50ہزار روپے ماہانہ قومی خزانے سے ادا کیے، اے سی گجرات نورالعین کو پولیس کی گاڑی بطور سکیورٹی دی گئی، معروف مہنگی کافی شاپ پر پارٹیز پر اخراجات بھی پولیس فنڈ سے ادا کیے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں