×

ڈیزاسٹر کی صورتحال ہو گئی ہے، اللہ رحم فرمائے، شہری گھروں میں رہیں، باہر نہ نکلیں، وزیراعلیٰ کی عوام سے درخواست

کراچی (Pلیٹیسٹ نیوز پاکستان) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کو اپنے دیئے گئے بیپر میں عوام کو اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ شہر کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا جو کہ بلکل ایسا نہیں، صبح سے ہماری ٹیمیں کمشنر کراچی،واٹر بورڈ، صوبائی وزرا روڈوں پر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اتنی شدید بارش میں کچھ بھی نہیں ہوسکتا جب تک بارش رک نہ جائے، میں خود بھیصبح سے مانیٹرنگ کررہا ہوں اور کچھ وفاقی وزرا سے بھی بات کی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں

کہ کس طرح سے اس پانی کو جلد از جلد نکالا جاسکتا ہے۔کراچی میں ڈیزاسٹر کی صورتحال ہو گئی ہے، اللہ رحم فرمائے، وزیراعلیٰ نے شہریوں سے اپیل کی کہ شہری گھروں میں رہیں، باہر نہ نکلیں، یاد رہے کہ دو دن قبل کراچی میں اگست کے ماہ میں بارش کا 298 ملی میٹر رکارڈ تھا جوکہ دو دن پہلے 345 ملی میٹر بارش پڑنے سے رکارڈ ٹوٹ چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہر کے تمام شاہراہوں سے سوائے نشیبی علائقوں سے پانی ہر جگہ سے نکل چکا تھا۔ لیکن جمعرات کی شدید بارش کے بعد جو مجھے بتایا گیا کہ ہے کہ فیصل بیس پر 140 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے ابھی اور ہونا باقی ہے میری تمام ٹیم رابطے میں ہے ہمارے کمشنر بھی رابطے میں ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ جہاں لوگوں کے مکانات کو نقصان کا خطرہ ہے وہاں سے پانی جلد از جلد نکالا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ محکمہ موسمیات نے کل شام تک وقفے وقفے سے بارش کی پیش گوئی کی ہے اگر اسی طرح سے بارش ہوتی رہی تو صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ ہماری کچی آبادیاں جہاں نالوں سے ساتھ مکانات بنے ہوئے ہیں اگر اوور فلو ہوجائیں تو گھروں کے اندر پانی چلا جاتا ہے جسکے لیے ضلعی انتظامیہ نے بندوبست کیا ہے کہ اسکول، کالجز اور شادی ہالز میں ان مکینوں کو رہائش دی جائے اور وہاں انھیں کھانا پینا بھی فراہم کیا جارہا ہے ان سلسلے میںعام فورسز کی بھی مدد لے رہے ہیں ان تمام علائقوں پر ہماری توجہ مرکوز ہے۔ انھوں نے کہا کہ بارش کا پانی تبھی ہی نکل سکتا ہے جب تھوڑا سا درمیان میں وفقہ ہوگا جوکہ میں بتاتا چلوں کہ ایک دو گھنٹے کا وقفہ آیا تھا جس میں، میں خود نکلا ہوں تھوڑا سا جائزہ لیا ہے اور انتظامیہ نے مجھے 1:30 بجے کے ڈی اے چورنگی کی تصویر بھیج کر صورتحال سے آگاہ کیا تھا تو اس وقت کمر تک پانی موجود تھا جب 4:00 یا 4:30 بجے تکمجھے وہاں کی تصاویر دکھائی گئی تو ایک سے ڈیڑھ انچ پانی رہ گیا تھا۔ تو کہنے کا مطلب ہے کہ بارش کا پانی تب ہی نکالا جاسکتا ہے جب بارش رک جائے اور دوبارہ نہ ہونے کے امکان ہوں۔ چینل کے توسط سے میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ گھروں میں رہیں، گھروں سے نہ نکلیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب میں تھوڑی دیر کے لیے باہر نکلا تھا صورتحال کا جائزہ لینے تو دیکھا کہ لوگ تو اپنے فیمیلیز اور بچوں کے ساتھ تفریح کے لیےباہر نکلے ہوئے ہیں جوکہ اچھی بات ہے موسم کو انجوائے کرنا لیکن یہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے کیوں کہ جو بارش ہوئی ہے اس سے تمام سڑکیں زیر آب ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ میں خود کل کراچی سے باہر گیا تھا ٹھٹہ، سجاول، ٹنڈومحمد خان، بدین، تھرپارکر اور حیدرآباد ان تمام اضلاع کا دورہ کرکے آیا ہوں اور آج بھی میں ان سب سے رابطے میں ہوں۔ ہم نے تمام وزرا کی ہر ضلع میں ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے بالخصوص جہاںبارش زیادہ ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگوں کے ساتھ موجود ہیں، ہماری انتظامیہ، ہمارے وزرا، پاکستان پیپلز پارٹی کے عہدیدار یہ سب موجود ہیں اور لوگوں کی مدد کے لیے پیش پیش ہیں۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے شدید برسات سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ کراچی میں شدید برسات کے سبب ڈزاسٹر کی صورتحال ہوگئی ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ ملیر کے علاقے میں اسکولکی عمارات خالی کرائی جائیں، ملیر اور سکھن میں رہنے والے لوگ پھنس گئے ہیں ان لوگوں کا انخلا فوری شروع کیا جائے اورمتاثرہ لوگوں کو اسکولوں میں رکھا جائے۔ پی ڈی ایم اے سکولوں میں متاثرہ لوگوں کو کھانا، پینا اور تمام ضروری اشیا مہیا کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ اللہ پاک رحم فرمائے، کچے مکانات میں رہنے والے لوگوں کی پریشانی ہے۔ لوگوں کی مدد کیلئے ڈی ایم سیز، ڈی سیز، پی ڈی ایم اے کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز کو اپنے عملے کے ذریعے شہریوں کا خیال رکھنے کا بھی کہا ہے۔

موضوعات:وزیراعلیٰ کی عوام سے درخواست

ایک اور بند گلی

میری زندگی بہت مزے سے گزر رہی تھی‘ میں اس چھوٹے سے جوہڑ میں شہرت کو انجوائے کر رہا تھا‘ صبح اٹھ کر ہواؤں کا رخ دیکھتا تھا اور عوام کی خواہش کے مطابق کالم لکھ دیتا تھا‘ میرے اعزاز میں سلطان راہی کی طرح ہر طرف سے تالیاں بجتی تھیں اور میں ان آوازوں میں خوش تھا ….مزید پڑھئے‎

میری زندگی بہت مزے سے گزر رہی تھی‘ میں اس چھوٹے سے جوہڑ میں شہرت کو انجوائے کر رہا تھا‘ صبح اٹھ کر ہواؤں کا رخ دیکھتا تھا اور عوام کی خواہش کے مطابق کالم لکھ دیتا تھا‘ میرے اعزاز میں سلطان راہی کی طرح ہر طرف سے تالیاں بجتی تھیں اور میں ان آوازوں میں خوش تھا ….مزید پڑھئے‎

اپنا تبصرہ بھیجیں