×

حضور اکرم ﷺ کونسی دعا پڑھتے اور مریض تندرست ہوجاتا تھا؟ایمان افروز تحریر

محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تھوک میں مکمل شفا تھی۔ اگر اللہ کے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی پیدائش کے وقت اپنے تھوک کو گھنٹی کے طور پر چاٹ لیا تو ہر بچہ اپنی عمر کے سب سے مشہور اور علم و ہمت میں متحد ہوجائے گا۔ ﷺ حاصل تو اگر دنیا کی حکومت بیماروں کا دم گھٹتی اور ان کے زخموں پر مبارک تھوک لگاتی تو ان کے زخم فوری طور پر ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے میں بخاری ، مسلم سمیت دیگر کتابوں میں مستند احادیث موجود ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا انھیں زمین پر ملتی تھیں اور کسی بیمار فرد کی تکلیف کی جگہ پر اسے جم جاتی تھیں اور اللہ تعالی سے اس کی صحتیابی کی دعا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ. اس دعا کو اس طرح بیان کرتی ہیں: حضور اکرم his اپنے جلتے ہوئے تھوک کو صاف مٹی میں ملا دیتے تھے اور اس کے تندرستی کے ل these ان مبارک الفاظ کو دہراتے تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی (ص) لکھتے ہیں: “حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات:” ہم میں سے کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلتے ہوئے تھوک سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس کا استعمال کرتے تھے سانس لینے کے دوران دہن کی تھوک مبارک ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جلتی تھوک کو اپنی شہادت کی انگلی پر لیتے تھے اور زمین پر ملتے تھے ، اسے منجمد کرتے تھے اور اسے درد یا زخم کی جگہ پر رکھتے تھے اور مذکورہ بالا ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ حدیث میں الفاظ امام قرطبی رحم may اللہ علیہ نے فرمایا: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر بیماری میں دم گھٹنے کی اجازت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ صحابہ میں عام اور معروف تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں