×

نبی کریم ﷺ کے وہ 2 امتی جن کی صلح قیامت کے روز اللہ رب العزت خود کروائیں گے، پڑھیں ایمان افروز واقعہ

اسلام آباد (خصوصی فیچر) حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار جب ہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکراہٹ کیا ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے دونوں امت اللہ تعالی کے حضور گھٹنوں کے بل ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا: یااللہ! اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔ میں بدلہ چاہتا ہوں۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: غلط کام کرنے کا انتقام لینا۔ ظالم جواب دیتا ہے ، اے رب! اب میرے پاس ظلم کے بدلے اس کو دینے کے لئے کوئی بچی نہیں ہے۔ تو مظلوم کہتے ہیں کہ اے اللہ مجھ پر اس کے گناہوں کا بوجھ ڈالو۔ یہ بہت مشکل دن ہوگا ، لوگوں کو اپنے گناہوں کا بوجھ کسی اور کے سر پر ڈالنے کی ضرورت ہوگی۔ اب اللہ انتقام کے متلاشی (مظلوم) سے کہے گا۔ وہ جنت کی طرف دیکھے گا اور اپنا سر اٹھائے گا۔ وہ جنت کی طرف دیکھے گا اور کہے گا: اے خداوند! اس میں چاندی اور سونے کے محلات ہیں اور یہ موتیوں سے بنے ہیں۔ اے رب! کیا یہ کسی نبی ، ولی اور شہید سے تعلق رکھتا ہے؟ اللہ تعالٰی فرمائیں گے! جو قیمت ادا کرتا ہے اسے دیا جاتا ہے۔ وہ کہے گا! اے رب! اس کی قیمت کون ادا کرسکتا ہے؟ اللہ تبارک وتعالی فرمائے گا: آپ اس کی قیمت ادا کرسکتے ہیں۔ اب وہ پوچھے گا: یا خداوند ، کیسے؟ وہ کہے گا: اے خداوند! میں نے آپ کو معاف کردیا۔ اللہ آپ کی تسبیح کرے گا۔ اب تم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر جنت میں داخل ہو جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو ، کیونکہ اللہ تعالی مومنین کے مابین صلح کرے گا۔ (صحیح بخاری) شیئرنگ کیئرنگ ہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں