×

تمہارے اندر اتنی طاقت ہے؟

روایت ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک نشہ آور شخص کو دیکھا جو اپنی عورت سے گفتگو کر رہا تھا۔ تم مجھ سے کیوں بھاگ رہے ہو؟ اگر میں چاہوں تو میں اپنی چونچ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے گنبد کو تھام کر دریا میں پھینک سکتا ہوں۔ یہ سن کر جناب سلیمان علیہ السلام مسکرا دیئے اور ان دونوں کو بلایا اور اس شخص سے پوچھا ، “کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ جو تم کہہ رہے ہو؟” تو اس نرگسسٹ نے پوچھا۔ اے اللہ کے نبی! میرے اندر اتنی طاقت نہیں ہے لیکن (پھر بھی میں نے اپنے آپ سے وہ جملہ کہا کیونکہ) کبھی کبھی مجھے اپنی اہلیہ کے سامنے ڈینگ مارنا پڑتا ہے۔ اور کسی کو اپنے آپ کو (کمالات) سے آراستہ اور پیار کرنے والے عاشق کے اظہار میں (کسی کی محبت کے اظہار میں) (جو میں کہتا ہوں) پیش کرنا ہے ، اسے اس کا الزام نہیں ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ سن کر سلیمان علیہ السلام نے اپنی عورت سے کہا ، “جب وہ تم سے پیار کرتا ہے تو تم اس کی بات کیوں نہیں مانتے؟” اے خدا کے نبی! وہ مجھ سے پیار نہیں کرتا ، وہ صرف چیزیں بنا دیتا ہے ، وہ مجھ سے بھی محبت کرتا ہے اور ساتھ ہی ایک اور پرندہ۔ یہ سن کر مادہ پرندے نے جناب سلیمان علیہ السلام کے دل پر بہت اثر ڈالا۔ اس نے بہت زور سے پکارا پھر چالیس دن لوگوں سے نہیں ملا۔ (عبادت کرتے رہیں) اور خدا سے دعائیں مانگتے رہیں کہ وہ ان کے دلوں کو اس کی محبت سے اس طرح بھر دیں کہ اس کی محبت کسی اور کی محبت میں گھل نہ جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں