×

طیب اردگان امت مسلمہ کا مودی : امت مسلمہ کے ہیرو کو چرچ اور میوزیم کو مسجد بنانے پر مسلمانوں نے ہی ایسا طعنہ دے دیا کہ آپ کو یقین نہیں آئے گا

لاہور (ویب ڈیسک) ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے بعد استنبول کی سب سے مشہور بازنطینی عمارتوں میں سے ایک تاریخی کاریہ گرجا گھر کو بھی مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے۔جمعے کے روز صدر اردوغان نے استنبول میں واقع تاریخی حیثیت کے حامل


کاریہ گرجا گھر میوزیم کو دوبارہ سے پرانی حیثیت میں بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قسطنطنیہ کے قدیم شہر کی دیواروں کے قریب ہزاروں سال قبل تعمیر کیے گئے کاریہ گرجا گھر میں 14ویں صدی کے بازنطینی دور کی نقش و نگاری اور بائبل کی کہانیوں کی منظر کشی کی گئی ہے۔سلطنتِ عثمانیہ نے جب 1453 میں اس شہر کو فتح کیا تو اسے ایک مسجد بنا دیا گیا تاہم تقریباً 70 سال قبل سیکولر ترکی کے دور میں اسے ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ اور اب اس میوزیم کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔گذشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر اردوغان نے اس میں تبدیلی کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم کاریہ گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کرنے کے اقدام نے ترکی اور یونان کے درمیان تناؤ میں اضافہ کیا ہے اور یونان کے وزیر خارجہ نے اردوغان کے اس فیصلے کو ’اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔یاد رہے کہ تقریباً 86 برس کے طویل وقفے کے بعد گذشتہ ماہ بازنطینی دور کی اہم عمارت اور دنیا کے عظیم تاریخی ورثے میں سے ایک، آیا صوفیہ کو دوبارہ عبادت کی جگہ بنا دیا گیا تھا اور اس موقع پر ادا کی جانے والی جمعہ کی پہلی نماز میں صدر اردوغان بھی شامل تھے۔صدر اردوغان کے کاریہ گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر پاکستان سمیت دنیا بھر سے ملا جلا ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔ جہاں کئی صارفین اردوغان کے


اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے اس تاریخی عمارت اور صدر اردوغان کی تصاویر دھڑا دھڑ شیئر کرتے نظر آتے ہیں وہیں بے شمار افراد ان پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔علی نامی صارف کہتے ہیں ’اردوغان اس وقت دنیا کے سب سے بہادر ترین رہنما ہیں اور ہمیں ان جیسے زیادہ مسلمانوں کی ضرورت ہے۔‘حتیٰ کے کئی صارفین تو انھیں سلطنتِ عثمانیہ کا خلیفہ بنانے کی باتیں بھر کر رہے ہیں۔عبد الوحید آفریدی کہتے ہیں کہ عظیم سلطان محمد فاتح دوم کے تمام خواب پورے ہوئے اور آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل ہونے کے بعد اردوغان نے ایک اور عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ساتھ ہی وہ کہتے ہیں ’سلطان عبد الحامد کی میراث محفوظ ہاتھوں میں ہے۔‘کاریہ چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے صہیب زبیری کہتے ہیں ’اردوغان امتِ مسلمہ کے مودی بنتے جا رہے ہیں کیا؟ ایک اور چرچ مسجد میں تبدیل کر دیا ہے۔‘انصار چوہدری کہتے ہیں ’طیب اردوغان نے ایک اور چرچ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کر دیا ہے۔ یعنی مسلم قیادت یہ چاہتی ہے کہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، انڈیا اور دوسرے غیر مسلم ممالک بھی مساجد کو مندر اور چرچ میں تبدیل کر دیں؟‘متحدہ عرب عمارات سے تعلق رکھنے والے حسن سجوانی کہتے ہیں ’آیہ صوفیہ کے بعد اردوغان نے بازنطین دور کے تاریخی گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کر دیا ہے۔‘ترک صدر کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’یہ صرف مسیحی برادری کی نہیں، اسلام اور مسلمانوں کی بھی توہین ہے۔‘(بشکریہ : بی بی سی )







اپنا تبصرہ بھیجیں