×

آج کل عربوں کو برا بھلا کہنے کا رواج کیوں پیدا ہو گیا ہے ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لیے احادیث کے حوالے کیوں دیے جارہے ہیں ؟ تصویر کا ایک اور رخ ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) پاک سعودیہ تعلقات ایمان کی بنیاد پر ہیں اور گزشتہ تقریباً ایک صدی پر محیط ہیں۔ آئی ایس پی آر نے جنرل باجوہ صاحب کے سعودیہ جانے سے قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ یہ تعلقات مضبوط تھے‘ مضبوط ہیں اور مضبوط رہیں گے (ان شاء اللہ)۔

سینئر کالم نگار امیر حمزہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہاں پر میں یہ بات بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بعض لوگ اہلِ عرب کے بارے میں احادیث بیان کرتے ہیں اور پھر ان کا انطباق کر کے توہین شروع کر دیتے ہیں۔ یہ انداز مناسب نہیں۔ حضور نبی اکرمﷺ نے بلاشبہ پیش گوئیاں فرمائی ہیں؛ تاہم ان میں سے سند کے اعتبار سے جو احادیث صحیح ہیں، ان کی شرح غیر عالم لوگ اپنی مرضی سے کرنا شروع کر دیتے ہیں اور یہیں وہ غلطیاں کرتے ہیں۔ ایسی صحیح احادیث عربوں سے متعلق بھی ہیں، ترکوں سے متعلق بھی ہیں اور فارسیوں سے متعلق بھی۔ ان میں فضائل بھی ہیں اور پیشگوئیاں کر کے ڈراوے بھی ہیں؛ تاہم بعض روایات ضعیف اور موضوع یعنی من گھڑت بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو اس پر کسی وقت تفصیلی گفتگو کروں گا فی الحال اسی قدر عرض کروں گا کہ علم کی دنیا کو نادانیوں سے گدلا نہیں کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر علمی چیزوں کو جذباتی بنا کر پیش کرنے سے ہمیں بہت نقصان ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔اب ذرا تذکرہ ہو جائے دماغ میں روشنیوں کا۔ انسانی دماغ میں کھربوں نیورونز ہیں۔ دو نیورون جہاں ملتے ہیں‘ ملاپ کے اس حصے یا علاقے کو سائنسی زبان میں SYNAPSE کہتے ہیں۔ جب پیغام ایک نیورون سے دوسرے نیورون کی جانب جاتا ہے تو ”سائیناپس‘‘ میں الیکٹریکل چارج ہوتا ہے۔ ایک روشنی (ضیا) پیدا ہوتی ہے۔ میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ اگر ان روشنیوں کو اکٹھا کیا جائے

تو ایک یا ایک سے زیادہ بلب روشن ہو سکتے ہیں۔ ان علاقوں یعنی سائیناپس کے بننے کی تعداد کیا ہے؟ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ سائنسدانوں نے بچّے کی پیدائش سے 3 سال تک کی عمر کے بارے میں ایک اصطلاح Zero to Three ایجاد کی ہے۔ اس پر دنیا بھر کے سائنسدانوں کی ہر سال کانفرنس ہوتی ہے۔ اگست 2020ء تک کی تازہ ریسرچ یہ ہے کہ بچہ جونہی پیدا ہوتا ہے تو اس کے دماغ کے نیورونز ایک سیکنڈ میں ایک ملین یعنی دس لاکھ بنتے ہیں۔ اب میں نے بچے کی تین سالہ عمر کے سیکنڈز بنائے پھر ان سیکنڈر کو دس لاکھ سے ضرب دی تو جو Synapses بنے ان کی تعداد 9 پدم 46 کھرب 94 ارب 40 کروڑ بنی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ماں کے شکم میں بچے کے دماغ میں Synapses نہیں بنتے۔ وہاں بھی بنتے ہیں اور پھر انسان کی چالیس سال تک عمر میں متواتر بنتے رہتے ہیں۔ اب تعداد کا اندازہ لگائیں۔ کہاں پہنچے گی… اس بے شمار تعداد میں بننے والے Synapses میں نور ہو گا، ضیا ہوگی۔ یہ بات بتلائی ہے اس عظیم ہستیؐ نے کہ جس نے مکہ فتح کیا تو فرمایا: (اے ہم سب پر ظلم کرنے والے قریش) جائو! تم آزاد ہو۔ تمہیں معاف کر دیا۔ اسی طرح مدینہ منورہ میں حرمِ مدنی کہ جہاں حضور نبی کریمﷺ کا مبارک روضہ ہے‘ آپؐ کا منبر اور مصلّٰی ہے۔ مسجد نبوی ہے۔ یہ دو حرم ہماری آنکھوں کا نور ہیں۔ ان کا تصورِ زیارت کر کے ہمارے Synapses نہ صرف بڑھنا شروع کر دیتے ہیں، بلکہ وہاں تو جگمگاہٹ کا منظر بن جاتا ہے۔ لوگو! یہ نور حوصلے سے بنتا ہے، برداشت سے بنتا ہے، عظیم اخلاق سے بنتا ہے، محبت اور پیار سے بنتا ہے۔ زبان سے تیر اور چھریاں برسانے سے تو صرف اندھیرا ہی بنتا ہے۔وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے بھی اپنی گفتگو میں پاک سعودیہ تعلقات کی پائیداری پر مثبت بات کی ہے۔ مولانا طاہر اشرفی ہمارے پرانے دوست ہیں‘ ان کا کردار بھی نمایاں اور مثبت طور پر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد میں سعودی سفیر جناب نواف بن سعید احمد المالکی نے بھی دونوں ملکوں کو قریب لانے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ایسے سب لوگوں کے دماغوں میں Synapses کی ضیائوں نے اندھیروں کو دور کیا ہے۔ سب سے بڑا اجالا جناب جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب سے ہوا ہے۔ ان کے ہمراہ جنرل فیض حمید تھے۔ جنرل (ر) راحیل شریف پہلے ہی وہاں ہوتے ہیں۔ اسی آخری اجالے، روشنی اور ضیا پاشی پر کالم کا اختتام کرتا ہوں اور دعا ہے کہ مولا کریم اس ضیا کو مزید نورانی بنائے تا کہ 50 لاکھ پاکستانی بھی مطمئن اور مسرور رہیں۔ پاک سعودیہ دوستی زندہ باد!

اپنا تبصرہ بھیجیں