×

بریکنگ نیوز: متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کیوں کیا ؟ امریکہ سے بڑا مطالبہ کرتے ہی ساری گیم منظرعام پر آ گئی

ابوظہبی (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات نے ایف 35 جنگی طیاروں کی خریداری کیلئے خواہش کا اظہار کر دیا، امارات نے امریکا کو واضح کر دیا کہ اب اسرائیل کیساتھ دشمنی ختم ہو چکی، طے پائے امن معاہدے کے بعد طیاروں کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہنی چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے

اسرائیل کیساتھ ہوئے امن معاہدے کے بعد واضح طور پر امریکا سے ایف 35 جنگی طیاروں کی خریداری کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کی جانب سے کہا گیا کہ گزشتہ ہفتہ ہوئے امن معاہدے کے بعد اب اسرائیل متحدہ عرب امارات کا دشمن نہیں رہا۔ اس لیے اب ہماری خواہش ہے کہ ایف 35 اسٹیلتھ طیارے فراہم کیے جائیں۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایف 35 جنگی طیارے حاصل کرنے کا خواہاں ہے، اس حوالے سے ہم غور کر رہے ہیں۔کچھ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال میں اسرائیل خوش نہیں ہے۔ امن معاہدہ ہونے کے باوجود اسرائیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو ایف 35 جنگی طیاروں کی فراہمی سے خطے میں دفاعی شعبہ میں اسرائیل کی سبقت ختم ہو جائے گی۔اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ یو اے ای کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں امریکی جنگی جہاز ایف 35 کی فروخت کا معاہدہ شامل نہیں۔ اسرائیل نے امریکہ سے کہا اس کی اجازت کے بغیر یو اے ای کو جہاز فروخت نہ کئے جائیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکا میں تعینات سفیر کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوری سیکرٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو سے ملاقات کریں اور ان تک ہمارا پیغام پہنچائیں ، جس میں اسرائیل کی پوزیشن کی وضاحت کریں کہ مشرق وسطیٰ کے ساتھ اسلحے کا کوئی معاہدہ نہ کیا جائے، یواے ای کے ساتھ بھی معاہدے میں ایف 35دینے کی کوئی بات شامل نہیں، اس لیے ان کو طیارے نہ دیے جائیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسرائیل کو معیاری فائدہ پہنچے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں